سرعام پیشاب کرنے پرگلے میں ہار

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption حیدر آباد پولیس نے لوگوں کےگلے میں ہار ڈال کر لوگوں کو شرمسار کرنے کا خیال دہلی کے سماجی ورکروں سےحاصل کیا ہے

بھارت کے شہر حیدر آباد میں پولیس نے لوگوں کے عوامی مقامات پر پیشاب کرنے سے روکنے کے لیےایک انوکھا طریقہ اختیار کیا ہے۔

حیدرآباد میں ٹریفک پولیس نے عوامی مقامات پر پیشاب کرنے والے افراد کو شرمسار کرنے کے لیے ان کے گلے میں ہار پہنانے شروع کر دیے ہیں۔

دکن ہیرالڈ کی رپورٹ کے مطابق حیدر آباد پولیس کے انسپکٹر راما سوامی نے لوگوں کو شرمسار کرنے کے لیے یہ انوکھا حربہ دہلی کے سماجی ورکروں سے حاصل کیا ہے جسے وہ حیدرآباد میں استعمال کر رہے ہیں۔

انسپکٹر راما سوامی بتاتے ہیں کہ جب وہ کسی شخص کو عوامی مقامات پر پیشاب کرتے ہوئےدیکھتے ہیں تو وہ ان کے گلے میں ہار ڈالتے ہیں اور پھر ان سے درخواست کرتے ہیں کہ انھیں رفع حاجت کےلیے عوامی مقام کی بجائے عوامی ٹوائلٹ کا استعمال کرنا چاہیے۔

حیدرآباد ٹریفک پولیس نے موٹرسائیکل سوار کو ہیلمٹ پہننے پر راغب کرنے کے لیے چاکلیٹ تقسیم کرنے شروع کیے ہیں۔

حیدر آباد پولیس کی اس مہم پر لوگ سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ تو پولیس کی اس کوشش کو سراہا رہے ہیں جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ یہ مسئلہ عوامی ٹوائلٹ کی تعداد بڑھائے بغیر حل نہیں ہو سکتا۔ فیس بک پر ایک شخص نے لکھا’ پہلے پبلک ٹوائلٹ تعمیر کرو، پھولوں پر پیسے مت ضائع کرو۔‘

ایک اور شخص نے لکھا:’ مسئلہ ٹوائلٹ کا نہیں، بلکہ رویوں کا ہے۔کیا کسی نے عورت کو کبھی عوامی مقامات پر رفع حاجت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ کیا وہ انسان نہیں ہے۔ اگر عورت کنٹرول کر سکتی ہے، تو مرد کیوں نہیں؟‘

2015 نے چین میں پولیس نے لوگوں کو گاڑیوں کے درمیان سے سڑک عبور کرنے کے رجحان کو روکنے کے لیے ایک ایسی ہی مہم شروع کی تھی۔ شین زین میں ٹریفک میں سڑک عبور کرنے کے دوران پکڑے جانے والے افراد کو یہ موقع دیتے ہیں کہ یا تو وہ تھوڑا سا جرمانہ ادا کریں یا پھر ٹوپی اور بغیر آستین کے لبادہ پہن کر ٹریفک کو کنٹرول کرنے میں مدد دیں۔