چین میں خواتین کے لیے مخصوص مساجد

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شہر کی مرکزی خواتین کی مسجد مردوں کی مرکزی مسجد کے نزدیک ہی واقع ہے
اسلامی دنیا نہ صرف انتہائی وسیع ہے بلکہ اس میں مختلف نکتہ ہائے نظر رکھنے والے بھی بڑی تعداد میں ملتے ہیں۔ بی بی سی کے مائیکل ووڈ کہتے ہیں چین میں صرف خواتین کے لیے مخصوص مسجدوں کی روایت نکتہ نظر کے تنوع کی بہترین عکاس ہیں۔

چین کے ہنان صوبے میں زرد دریا کے میدانوں کے وسط میں کائی فنگ کا شہر آباد ہے۔ یہ شہر ہزار سال قبل نہ صرف سانگ بادشاہت کا دارالحکومت بلکہ 19ویں صدی سے قبل تک اس کا شمار دنیا کے عظیم شہروں میں ہوتا تھا جہاں مختلف مذاہب کے لوگ آپس میں تبادلہ خیال کیا کرتے تھے۔

اس پرانے شہر کی تنگ گلیوں میں بدھا سے لے کے عیسائوں کے گرجا اور مسلمانوں کی مساجد، سبھی موجود ہیں۔ چین میں عیسائیت اور اسلام ساتویں صدی میں آئے تھے اور یہاں مشرقِ قریب کی چند قدیم ترین مسلمان آبادیاں قائم ہیں۔

تاہم سب سے حیرت انگیز یہاں خصوصی طور پر خواتین کے لیے مخصوص مساجد ہیں جہاں کی امام بھی خواتین ہی ہوتی ہیں۔

شہر کی مرکزی خواتین کی مسجد مردوں کی مرکزی مسجد کے نزدیک ہی واقع ہے۔

یہاں کی امام گوو جنگ فینگ ہیں جن کی تربیت مردوں کی مسجد کے امامت کرنے والے ان کے والد نے کی ہے۔

مائیکل ووڈ کہتے ہیں گوو جنگ فینگ مجھے کائی فینگ کی تنگ گلیوں سے گزار کے ایسی عمارت کے سامنے لے آئیں جو دیکھنے میں کنفیوشس کے مندر جیسی لگتی تھی۔ اندر زرد پھولوں کی بیلوں سے آراستہ کھپریل کی چھت والا ایک چھوٹا سا دالان تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption گوو جنگ فینگ کی نظر میں خواتین کی مساجد چینی روایت کا حصہ ہیں

یہ وانگ جیا گلی والی مسجد تھی جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ کائی فینگ میں بچ جانے والی خواتین کی سب سے قدیم مسجد ہے۔ یہ مسجد سنہ 1820 میں تعمیر ہوئی تھی۔

نماز کی ادائیگی والا کمرہ بہت وسیع نہیں ہے تاہم یہاں قالین بچھا ہے اور کرسیاں رکھی ہیں۔ اگرچہ اس کمرے میں 50 کے قریب لوگوں کی گنجائش ہے تاہم یہ عبادت کرنے کی خوبصورت ترین جگہوں میں سے ایک ہے۔

گوو جنگ فینگ کی نظر میں خواتین کی مساجد چینی روایت کا حصہ ہیں، خاص طور پر ہنان صوبے میں۔ کائی فینگ شہر میں خواتین کے لیے مخصوص 16 مساجد ہیں جبکہ شہر کے گردونواح میں درجنوں مزید خواتین کی مساجد قائم ہیں۔ جینگ جو شہر میں خواتین کی اسلامی تعلیم کے لیے سکول قائم ہیں اور چھوٹے شہروں میں بھی کئی مساجد قائم ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کائی فینگ شہر میں خواتین کے لیے مخصوص 16 مساجد ہیں

جنوب میں ینان اور شمال میں بھی خواتین کی کئی مساجد ہیں جبکہ مسلم اکثریتی جنگ جینگ میں وسطی ایشیا کے سنی فقے کی پیروی کے باعث ایسا نہیں ہے۔

مسلمان خواتین کےلیے الگ سے مخصوص مساجد کی تاریخ جاننے کے لیے 13ویں صدی میں جانا ضروری ہے جب یہاں منگ بادشاہت قائم تھی اور مسلمان آبادی جن کی مہمانوں کی طرح عزت کی جاتی تھی اچانک ظلم کا شکار ایک اقلیت بن کے رہ گئے تھے۔

چین میں اسلام کے لیے 15ویں صدی بہت ہی تباہ کن ثابت ہوئی تاہم 16ویں صدی میں صورت حال کچھ بہتر ہونا شروع ہوگئی تھی۔ اس زمانے میں مسلمان ثقافت کی تدریج اور بہتری کے لیے ایک مہم کا آغاز ہوا اور اسلامی ثقافت اور تعلیم ایک بار پھر بحال ہوگئی تھی۔

ایک صدی بعد چین کے مسلمان عالم اور دانشور، مذہب اسلام کے ساتھ ساتھ چینی ریاست کے ساتھ وفادار ہونے سے متعلق کتابیں قلمبند کر رہے تھے۔ اس ہی زمانے میں عوامی سطح پہ لوگوں میں یہ شعور اجاگر ہوا کہ اپنے دین اور ایمان کو محفوظ کرنے اور اگلی نسلوں تک منتقل کرنے کے لیے خواتین کا کردار بہت اہم ہوسکتا ہے۔

Image caption چین میں مسلمان آبادی کو کئی اتار چڑھاؤ کا سامنا رہا ہے

یہی وجہ ہے کہ مسلمان خواتین کے لیے مساجد کا قیام عمل میں آنا شروع ہوا جن کا مقصد اس سماجی گروہ کو محفوظ کرنا اور خواتین کی تعلیم کے لیے کام کرنا تھا۔

مسجد کے دالان میں سب کے ساتھ گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے ایک خاتون کا کہنا تھا کہ ’جب ہماری والدہ نوجوان لڑکیاں تھیں اس وقت غریب مسلمان خواتین کے لیے تعلیم کے حصول کے لیے یہ واحد جگہ تھی۔ خواتین نے مل جل کے کام کیا، خواتین نے خواتین کی مدد کی۔

’مسلمان دنیا میں کچھ جگہوں پر خواتین کی مساجد کی اجازت نہیں ہے لیکن ہمارے خیال میں یہاں یہ ایک اچھی بات ہے۔ سنہ 1949 سے خواتین کو یہاں بہتر حیثیت حاصل ہے اور یہ مساجد اس کا ہی ایک حصہ ہیں۔‘

کچھ دیر بعد خواتین کی مرکزی مسجد میں سب عبادت کی لیے جمع ہوگئے تھے اور انھوں نے ہمارے عملے کو بھی اندر آنے کی دعوت دی جن میں مرد بھی شامل تھے۔

Image caption چین میں اسلام کے لیے 15ویں صدی بہت ہی تباہ کن ثابت ہوئی تاہم 16ویں صدی میں صورت حال کچھ بہتر ہونا شروع ہوگئی تھی

چین میں مسلمان آبادی کو کئی اتار چڑھاؤ کا سامنا رہا ہے۔ منگ بادشاہت کے زمانے کی طرح آج کے وقت میں بھی مغرب میں سنکیانگ میں ان کے خلاف پھیلنے والی افواہوں کے باعث انھیں اپنی وفاداری ثابت کرنے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے۔ وہ بتانا چاہتے ہیں کہ قدیم ’ہوئی مسلمان‘ بھی چینی ریاست کے ساتھ اتنے ہی وفادار ہیں جتنے کہ ہان ہیں۔

20ویں صدی میں چین باقی دنیا سے بالکل کٹا ہوا تھا اور یہی وجہ ہے کہ صرف خواتین کے لیے مختص مساجد سنہ 1979 میں ایران کے انقلاب کے بعد آنے والی انتہا پسندی کی لہر سے محفوظ رہی تھیں۔

اب وقت ایک بار پھر بدلتا نظر آرہا ہے اور کائی فینگ میں معمول کی بات سمجھی جانے والی خواتین کے لیے مختص مساجد کا رجحان دنیا کے مختلف ممالک تک پھیلتا ہوا دیکھا جاسکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

کچھ ہی عرصہ قبل ایران میں خواتین کے لیے مخصوص مساجد کو تسلیم کیا گیا ہے۔ جرمنی کے شہر برلن اور ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈیم میں، لبنان اور بخارا میں، اور افریقہ میں سوڈان میں بھی خواتین کی مساجد قائم ہوچکی ہیں۔

حال ہی میں امریکہ کے شہر لاس اینجلس میں خواتین کی پہلی مسجد میں افریقی نژاد امریکی خاتون نے امامت کروائی ہے۔ جبکہ برطانیہ میں بریڈفورڈ مسلم وومنز کونسل نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ کونسل برطانیہ میں خواتین کی پہلی مسجد کی تعمیر کے منصوبے پرغور کر رہی ہے۔

کئی مسلمان مرد وخواتین سے گفتگو کے دوران انھوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ خواتین کے لیے مخصوص مساجد کی مہم، تحریک اسلام کی تاریخ کے لیے ایک تجدیدی اور ناگزیر مرحلہ ہے۔ اگر مقصد روحانیت اور روحانی زندگی کی تجدید ہے تو وانگ جیا گلی والی مسجد میں ہم سب کے لیے ایک سبق موجود ہے۔

اسی بارے میں