بیجنگ میں ارب پتی نیویارک سےبھی زیادہ

تصویر کے کاپی رائٹ ChinaFotoPress

چین کی ایک مقامی فرم ہرون کا کہنا ہے کہ دارالحکومت بیجنگ پہلی بار نیو یارک کو پیچھے چھوڑ کر سب سے زیادہ ارب پتی افراد کا شہر بن گیا ہے۔

ہرون کی رپورٹ کے مطابق چین کے دارالحکومت میں اس وقت ارب پتی افراد کی تعداد ایک سو ہے جبکہ نیویارک میں ایسے افراد کی تعداد 95 ہے۔

اس فہرست میں چین کا تجارتی مرکز شنگھائی پانچویں نمبر پر ہے۔

ہرون جو نے گذشتہ پانچ سالوں میں افراد کے پاس موجود دولت کو امریکی ڈالروں میں اندازہ لگا کر سالانہ ’گلوبل رچ لسٹ‘ شائع کی ہے۔

اس جائزے کے دوران معلوم ہوا ہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران بیجنگ میں 32 نئے ارب پتی افراد آئے ہیں۔ جبکہ نیو یارک میں ایسے افراد کی تعداد صرف چار رہی ہے۔

مجموعی طور پر تو چین نے امریکہ کو سب سے زیادہ ارب پتی افراد کی فہرست میں پیچھے چھوڑ دیا ہے، تاہم دس سر فہرست ارب پتی افراد ہرون کے مطابق اب بھی امریکی ہیں۔

چین میں 90 نئے ارب پتی افراد کے آنے سے کل تعداد 568 ہو گئی ہے جبکہ امریکہ میں ارب پتی افراد کی کل تعداد 535 ہے۔

چین کے ارب پتی افراد کی دولت کا تخمینہ 14 کھرب ڈالر لگایا گیا ہے جو کہ آسٹریلیا کے جی ڈی پی کے برابر ہے۔

ہرون کے چیئرمین روپرٹ ہوگیورف نے خبر راساں ایجنسی اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چین میں افراد کی دولت میں معاشی سست روی اور سٹاک مارکیٹ میں عدم استحکام کے باوجود اضافہ ہوا ہے۔

ہرون کے مطابق چین کے سب سے امیر ترین شخص اب بھی وینگ جیانلن ہیں۔ جن کی دولت ایک اندازے کے مطابق 26 بلین ڈالر ہے۔ تاہم وہ ہرون کی سرفہرست دس ارب پتی افراد میں شامل نہیں ہیں۔

اسی بارے میں