دہلی میں آلودگی سے 30 ہزار سالانہ اموات

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں آلودگی کی وجہ سے زیادہ تر افراد کے پھیپڑوں کی حالت خراب ہے۔

نئی دہلی کے شہریوں کی اکثریت اس کی پرواہ نہیں کرتی لیکن کچھ ہیں جو زہریلی ہوا سے محفوظ رہنے کی تدابیر کر رہے ہیں۔

سریندر کمار ان میں سے ایک ہیں۔ انھیں دھول سے الرجی ہے جس سے بچنے کے لیے وہ اکثر ہرے رنگ کا سرجیکل ماسک استعمال کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ہرے رنگ کا ماسک پہن کر سڑک پر چلنا ذرا عجیب لگتا ہے اس لیے وہ ایک ’ڈیزائنر ماسک‘ کی تلاش میں دہلی کے ایک بڑے مال میں آئے ہیں۔

سریندر کمار کے مطابق ’سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ دیکھنے میں اچھا لگتا ہے اور آپ کو آلودہ ہوا سے محفوظ بھی رکھتا ہے۔ یہ مہنگا ضرور ہے لیکن اسےآپ چھ مہینے تک استعمال کرسکتے ہیں اور یہ ماسک آپ کے ہر طرح کے کپڑوں کے ساتھ میچ کر جاتے ہیں۔‘

یہ ِخوبصورت ڈیزائنر ماسک نئی دہلی میں دو سے تین ہزار روپے میں فروخت ہو رہے ہیں۔

بھارتی دارالحکومت میں ماسک متعارف کرانے والی کمپنی ’ووگ ماسک‘ کے مالک جے دھر گپتا کہتے ہیں ’نئی دہلی میں ہی نہیں پورے ملک میں آلودگی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ لوگوں کی صحت متاثر ہو رہی ہے کیونکہ آلودہ ہوا میں موجود ذرات پھیپھڑوں کے راستے ہمارے خون میں پہنچ جاتے ہیں اور ان کی وجہ سے دل، دماغ اور پھیپھڑوں کی سنگین بیماریاں جنم لیتی ہیں۔‘

جےدھر گپتا کا کہنا ہے عام طور پر لوگوں میں اب بیداری بڑھی ہے، انھیں زہریلی ہوا کے خطرے کا احساس تو ہے لیکن یہ نہیں معلوم کہ وہ کس قسم کی بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں؟

ان کا مزید کہنا تھا ’آپ اکثر لوگوں کو سرجیکل ماسک پہن کر گھومتے ہوئِے دیکھیں گے لیکن اس ماسک کا کام بالکل مختلف ہے وہ انفیکشن کو پھیلنے سے روکنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، ہوا کو صاف کرنے کے لیے نہیں۔‘

نئی دہلی کی ہوا اتنی گندی ہے کہ جیگوار گاڑی بنانے والی کمپنی کے سی ای او نے حال ہی میں کہا کہ ان کی گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں دارالحکومت کی ہوا سے صاف ہوتا ہے۔

آلودگی پر نگاہ رکھنے والے ادارے سی ایس ای کے مطابق نئی دہلی میں ہر سال زہریلی ہوا سے 10 سے 30 ہزار کے درمیان اموات ہوتی ہیں جبکہ شہر کے 44 لاکھ بچوں میں سے تقریباً نصف کے پھیپھڑے ہمیشہ کے لیے متاثر ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں