جے این یو بحران، کشمیر میں ہڑتال اور مظاہرے

تصویر کے کاپی رائٹ Youtube
Image caption نئی دہلی اور بھارت کے دوسرے شہروں میں سینکڑوں کشمیری طلبا و طالبات زیرتعلیم ہیں۔

نئی دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں کئی ہفتوں سے طلبا کے خلاف جاری حکومتی کارروائی اور کشمیری پرفیسر سعید عبدالرحمن گیلانی سمیت کئی بھارتی طلبا کی گرفتاری کے خلاف بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں ہفتے کو مکمل ہڑتال رہی۔

اس دوران حکام نے حساس علاقوں میں قدغنیں لگائیں اور کئی نوجوانوں کو گرفتار کیا۔ میر واعظ عمرفاروق اور یاسین ملک سمیت کئی علیحدگی پسند رہنماوں کو گھروں میں نظربند کیا۔

کشمیر کے سبھی بائیس اضلاع میں ہڑتال کی اپیل حریت کانفرنس نے کی تھی جبکہ باقی علیحدگی پسند گروپوں نے اس کی حمایت کی۔ تاہم ہڑتال کا اثر کشمیر وادی اور جموں کے بعض مسلم اکثریتی علاقوں میں رہا۔

ہڑتال کے دوران عام زندگی معطل ہوکر رہ گئی کیونکہ احجتاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے پولیس نے حساس بستیوں کی ناکہ بندی کردی تھی اور کل رات ہی کئی نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود کئی مقامات پر خواتین اور نوجوانوں نے مظاہرے کیے۔

خاتون علیحدگی پسند رہنما زمرودہ انجم نے احتجاجی مظاہرے کی قیادت کی۔ انھوں نے بتایا ’ہم ہندوستان کی سالمیت کے دشمن نہیں۔ یہ بات بھارت کے باضمیر طلبا کو معلوم ہے، اسی لیے وہ انصاف اور حق کی لڑائی میں ہمارا ساتھ دے رہے ہیں۔ آج جب حکومت نے ان کی جینا حرام کردیا تو ہم ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کررہے ہیں۔‘

ہڑتال کی اپیل کرتے ہوئے حریت کانفرنس کے رہنما شبیر احمد شاہ نے کہا تھا کہ کشمیری ہر اُس بھارتی شہری کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں گے جو انصاف، اظہاررائے کی آزادی اور کشمیریوں کے حقوق کی خاطر آواز بلند کرے گا۔

واضح رہے بھارتی پارلیمان پر مسلح حملے کی سازش کے الزام میں سزائے موت پانے والے کشمیری نوجوان افضل گورو کی یاد میں دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں طلبا نے ایک مظاہرہ کیا تھا جس کے بعد پولیس نے دعوی کیا کہ کشمیر کی آزادی اور افضل کے حق میں نعرے بازی ہوئی۔

علیحدگی پسندوں کے ساتھ ساتھ یہاں کے بعض ہند نواز سیاستدان بھی یونیورسٹی بحران کے معاملے میں حکومت ہند کی نکتہ چینی کررہے ہیں۔

رکن اسمبلی انجنیئر رشید نے بھی جے این یو کے طلبا کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ انجنیئر رشید کے بقول ’بی جے پی کہتی ہے کہ افضل گورو کا دن منانا یا اس کا نام لینا ملک کے ساتھ غداری ہے۔ لیکن بی جے پی نے پی ڈی پی کے ساتھ شراکت اقتدار کا معاہدہ کیا جبکہ پی ڈی پی کھلے عام افضل کی پھانسی کو عدالتی قتل کہتی ہے۔ یہ دوہرا معیار کیوں؟‘

قابل ذکر ہے کہ نئی دہلی اور بھارت کے دوسرے شہروں میں سینکڑوں کشمیری طلبا و طالبات زیرتعلیم ہیں۔ یہاں کے سیاسی حلقوں کو خدشہ ہے کہ جے این یو بحران کے بعد میڈیا میں ہندوقوم پرستانہ جذبات کو بھڑکایا جا رہا ہے جس کے باعث ان طالب علموں کی سلامتی خطرے میں پڑگئی ہے۔

اسی بارے میں