کشمیری جنگجو ایک بار پھر ہیرو کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ majid jahangir
Image caption بھارتی پولیس نے عوام کو تصادم سے دور رہنے کی ہدایت جاری کی ہے

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں تنازعے کے 25 سال بعد جموں کشمیر کی پولیس نے پہلی مرتبہ 18 فروری کو ایک اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ فوج اور مسلح گروہوں کے درمیان جاری جنگ سے خود کو دور رکھیں۔

پولیس کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ’لوگوں کو ان مقابلوں سے دور رہنا چاہیے کیونکہ اس دوران وہ بھی دونوں جانب سے چلنے والی گولیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ وہاں کے رہائشیوں کو بھی ان مقابلوں کے دوران اپنے گھروں سے باہر نہ آنے اور کھڑکیوں سے باہر نہ جھانکنے کی تنبیہ کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ گاؤں کے بڑے بوڑھوں سے بھی گزارش کی گئی ہے کہ وہ لوگوں کو ان مقابلوں سے دور رہنے کے لیے سمجھائیں۔‘

پولیس کے اس انتباہ کے بعد خیال فوری طور پر 14 فروری کو ہونے والے اس واقعے کی طرف جاتا ہے جس میں جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلعے میں دو طالب علم نامعلوم سمت سے آنے والی گولی سے ہلاک ہوگئے تھے لیکن اس انتباہ کی اور وجوہات بھی ہوسکتی ہیں۔

ماضی کے برخلاف، جب مسلح جنگجوؤں اور بھارتی افواج کے بیچ اندھادھند فائرنگ کے دوران لوگ پناہ کے لیے بھاگ رہے ہوتے تھے، اس مرتبہ حکام یہ محسوس کررہے ہیں کہ لوگ، خاص طور پر نوجوان ہنگامے کے مقامات کا رخ کرتے ہیں۔

اس کی حالیہ مثال اس ماہ کے اوائل میں پامپور میں 48 گھنٹے جاری رہنے والی جنگ کے دوران نو افراد کی ہلاکت ہے، جن میں بھارتی سکیورٹی فورسز کے دو کیپٹن بھی شامل تھے۔

دوبارہ عوامی ہمدردی حاصل ہونا

تصویر کے کاپی رائٹ twitter
Image caption کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہےکہ مسلح جدوجہد کی اس حمایت کی ایک وجہ مقامی پی ڈی پی کا بے جے پی کے ساتھ ملنا بھی ہے

یہ موجودہ رویہ 90 کی دہائی کے اوائل کے رویے سے مطابقت رکھتا ہے جب کشمیر میں باغی مسلح گروہوں کو عوامی حمایت حاصل تھی۔

ممکن ہے کہ تازہ حمایت ایک وقتی غبار ہو لیکن رویے کی یہ تبدیلی راتوں رات ممکن نہیں ہوئی، بلکہ یہ تبدیلی مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے حکومت کے تمام اقدامات کی ناکامی اور اس کے غیر سنجیدہ رویے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔

کشمیر کے مسلح گروہوں کی تحریک کو دراصل 1990 کی دہائی کے وسط میں ہی اپنے اندرونی اختلافات اور بھارتی فوج کی حامی ’اخوان‘ کے قیام کی وجہ سے شدید دھچکا لگ چکاہے۔ علیحدگی پسندوں نے اخوان کو اس وقت غدار قرار دیا تھا۔

اس شکست و ریخت کے نتیجےمیں باہر کے گروہوں، خاص طور پر پاکستان کے مسلح گروہوں کو اپنی اجارہ داری قائم کرنے کا موقع مل گیا۔

اس مسلح جدوجہد کے ساتھ ساتھ بھارت اور پاکستان اور سری نگر اور دہلی کے درمیان بھی امن کے عمل کو سفارتی سطح پر حل کرنے کی کوششیں کی جاتی رہیں۔

لیکن سنہ 2013 میں افضل گورو کی پھانسی کے بعد مایوسی اور ناامیدی نے جنم لیا اور لوگوں کے رویے تبدیل ہونا شروع ہوگئے۔ ان رویوں کو میڈیا کی جانب سے ایسے بیانات نے بھی ہوا دی جن کو کشمیر کے خلاف تصور کیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پاکستانی جنگجو کے جنازے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی

کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہےکہ مسلح جدوجہد کی اس حمایت کی ایک وجہ مقامی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کا بھارت کی ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کے ساتھ ملنا بھی ہے۔

پی ڈی پی نے سنہ 2014 کے انتخابات میں بی جے پی کے خلاف مہم چلا کر جنوبی کشمیر کے نوجوانوں کو سیاسی طور پر متحرک کر دیا تھا لیکن بعد میں حکومت بنانے کے لیے بی جے پی کے ساتھ ہی مل گئی۔

اس وقت جب وفاقی حکومت کشمیر کے سیاسی معاملات کو سلجھانے میں کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہی، وہاں کے نوجوانوں کا رحجان مسلح جدوجہد کی طرف بڑھتا جا رہا ہے۔

حال ہی میں جنوبی کشمیر کے علاقے ترال سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ نوجوان برہان وانی نے سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز جاری کرنا شروع کر دی ہیں جن میں نوجوانوں کو ہتھیار اٹھانے پر آمادہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

لیکن سرکاری اعدادو شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ نوجوانوں میں مسلح جدوجہد کا رحجان اس سے کہیں پہلے ہی شروع ہوگیا تھا۔

ان اعدادو شمار کے مطابق 2015 میں 66 اور 2014 میں 60 شہریوں نے مسلح تنظیموں میں شمولیت اختیار کی جبکہ 2013 میں یہ تعداد 28 تھی۔ مقامی مسلح گروہ حزب المجاہدین بھی دوبارہ متحرک ہوگیا ہے۔ اس سے قبل پاکستان سے تعلق رکھنے والے لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسے متحارب گروہ اس جدوجہد پرحاوی تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مقامی نوجوانوں کے مسلح گروہوں میں شمولیت کی ایک وجہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں سیاست دانوں کی ناکامی بھی ہے

اس بڑھتے ہوئے تحریکی عمل کے نتیجےمیں بھارتی فوج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے مسلح افراد کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ لیکن یہ بھی دیکھنے میں آرہا ہے کہ ان کی نمازجنازہ میں عوام کی ایک بڑی تعداد شریک ہونے لگی ہے۔

پاکستان سے تعلق رکھنے والے لشکر طیبہ کے کمانڈر ابو قاسم کی نمازجنازہ میں 30 ہزار سے زیادہ افراد نے شرکت کی۔ اس کے مقابلے میں رواں سال سات جنوری کو انتقال کرنے والے ریاست کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کی نماز جنازہ میں شرکت کرنے والوں کی تعداد انتہائی کم تھی۔

دیگر عسکریت پسندوں کی نماز جنازہ میں بھی لوگوں کی کثیر تعداد میں شرکت کو دیکھتے ہوئے ہی شاید پولیس نے پامپور میں ہلاک ہونے والے تین پاکستانی جنگجوؤں کی لاشوں کو فورا ٹھکانے لگادیا تھا۔ لیکن علاقے کے لوگوں نے ان تینوں کے مردہ اجسام کی بازیابی کا جارحانہ طور پر مطالبہ کیا ہے۔

آخر کس طرح یہ مسلح شدت پسند کشمیر میں دوبارہ مقبولیت حاصل کرتے جارہے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بڑا مسئلہ عوام کے تحفظات کو دور کرنے میں حکومت کی مستقل ناکامی ہے

مقامی نوجوانوں کے مسلح گروہوں میں شمولیت کی ایک وجہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں سیاست دانوں کی ناکامی بھی ہے۔ لیکن کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کشمریوں کی نئی مسلح جدوجہد 'بے ضررر' ہے۔

اس کی مثال یوں ملتی ہے کہ 90 کی دہائی کے برعکس، آج کی مسلح جدوجہد ایک عام آدمی کی زندگی کو متاثر نہیں کرتی۔ وہ عوامی جھگڑوں میں نہیں پڑتے اور حکومت کے کاموں میں بھی دخل اندازی نہیں کرتے اور نہ ہی بھتہ خوری میں ملوث ہیں۔

لیکن بڑا مسئلہ عوام کے تحفظات کو دور کرنے میں حکومت کی مستقل ناکامی ہے جس کی وجہ سے وہاں کی عوام میں مسلح جدوجہد کا رحجان بڑھتا جارہا ہے۔

اسی بارے میں