دیش سے نہیں دیش میں آزادی چاہیے: کنہیا کمار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کنہیا کمار کو 22 دن کی حراست کے بعد جمعرات کی شام جیل سے رہا کیا گیا

بھارت کی مشہور جواہر لعل یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ لیڈر کنہیا کمار نے دیش سے غداری کے مقدمے میں ضمانت پر رہائی کے بعد کہا ہے کہ وہ حکومت کے خلاف اپنی نظریاتی لڑائی جاری رکھیں گے اور ان پر لگائے جانے والے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔

کنہیا کمار کو 22 دن کی حراست کے بعد جمعرات کی شام جیل سے رہا کیا گیا۔ ان پر ملک کے خلاف اور کشمیری علیحدگی پسند افضل گورو کے حق میں نعرہ لگانے کا الزام ہے۔

کنہیا کمار کی عمر 29 برس ہے اور وہ ٹیچر بننا چاہتے ہیں لیکن رہائی کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں انھوں نے ایک منجھے ہوئے سیاستدان کی طرح صحافیوں کےسوالات کے جواب دیے۔

انھوں نے کہا ’وہ دیش سے نہیں دیش میں آزادی چاہتے ہیں کیونکہ ملک میں طلبہ کی آواز خاموش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

کنہیا کمار پر الزام ہے کہ انھوں نے کشمیر علیحدگی پسند افضل گورو کی پھانسی کی تیسری برسی کے موقع پر ایک تقریب منعقد کی تھی جس میں بھارت کے خلاف اور کشمیر کی علیحدگی کے حق میں نعرے بلند کیے گئے تھے۔

افضل گورو کو پارلیمان پر حملے کے سلسلے میں پھانسی دی گئی تھی۔ اس پس منظر میں ان سے پوچھا گیا کہ افضل گورو کے بارے میں ان کا نظریہ کیا ہے؟

انھوں نے کہا ’افضل گورو اس ملک کا شہری تھا اسے قانون نے سزا دی ہے اور وہی قانون اس دیش کی جنتا کو اس سزا کے خلاف بولنے کا اختیار دیتا ہے۔ جو لوگ اس پر احتجاج کر رہے ہیں یہ ان کا آئینی حق ہے۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ میرے لیے افضل گورو ہیرو نہیں ہے، میرے لیے روہت ویمولا ہیرو ہے۔‘

روہت ویمولا حیدر آبادی یونیورسٹی کے ایک دلت طالب علم تھے جنھوں نے یونیورسٹی کی جانب سے تادیبی کارروائی کے بعد خود کشی کر لی تھی۔ روہت ویمولا پر بی جے پی سے وابستہ طلبہ کی تنظیم کے رہنماؤں سے مار پیٹ کرنے کا الزام تھا۔

جیل سے رہائی کے بعد یونیورسٹی پہنچنے پر کنہیا کمار کا زبردست استقبال کیا گیا۔ انھوں نے ہزاروں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔

کنہیا کمار اور جواہر لعل یونیورسٹی کے دو دیگر طلبہ کی گرفتای سے ملک میں اظہار خیال کی آزادی پر بحث چھڑ گئی ہے اور قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ قائم کرنے کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہے۔

کنہیا کمار ہر طرف ہیں، ٹی وی چینلوں پر، اخبارات میں، گاؤں کی چوپالوں پر ہونے والے بحث مباحثوں میں۔ وہ غدار ہیں یا نہیں یہ فیصلہ تو عدالت میں ہوگا لیکن سیاست میں ان کے لیے راستے تیزی سے کھلتے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں