’شام میں فائربندی مستقل امن کی بنیاد بن سکتی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ

روسی اور یورپی ممالک نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ شام میں گذشتہ ایک ہفتے سے جاری فائر بندی مکمل امن قائم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

روس، جرمنی، فرانس، اٹلی اور برطانیہ کے رہنماؤں نے جمعے کے روز ٹیلیفون پر شام میں جاری فائر بندی کے حوالے سے بات چیت کی۔

اس ٹیلیفونک گفتگو میں یورپی رہنماؤں نے روس پر زور دیا کہ وہ شام پر اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے شامی حکومت کو موجودہ فائر بندی کو برقرار رکھنے پر مجبور کرے۔

روس اور امریکہ کی مدد سے طے پانے والی فائر بندی گذشتہ سنیچر سے نافذ العمل ہے اور ادکا دکا خلاف ورزیوں کےعلاوہ وہ ابھی تک برقرار ہے۔ البتہ شامی حکومت اور حزب مخالف کے گروہ ایک دوسرے پر فائر بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

فائربندی کے اس معاہدے میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ اور النصرہ فرنٹ شامل نہیں ہیں۔

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے سٹیفن مستورا نے کہا ہے کہ وہ شام میں پانچ سالوں سے جاری خانہ جنگی کو مکمل طور پر بند کروانے کے لیے جلد ہی اجلاس بلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مشیر جان ایگلینڈ نے کہا ہے کہ شام کے ایسے علاقے جو متحارب گروہوں کے محاصرے میں ہیں وہاں امدادی سامان پہنچانے میں کامیابیاں ملی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ شہر دیر الزور جہاں دو لاکھ کے قریب نفوس پھنسے ہوئے انھیں بھی امدادی سامان پہنچانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نےدير الزور کو اپنے محاصرے میں لے رکھا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

شام میں پانچ برسوں سے جاری خانہ جنگی میں کم از کم ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ کئی لاکھ افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ روسی صدر کے ساتھ گفتگو کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ ’ہم اس فائربندی کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ مثبت پیشرفت کو استعمال کرتے ہوئے شام میں ایسے پائیدار امن قائم کی کوشش کرنے چاہیے جس میں بشارالاسد نہ ہوں۔

جرمن چانسلر اینگلا میرکل نے پیرس میں فرانس کے صدر سے ملاقات کے بعد روس کی طرف سے جنگ بندی پر عمل کی یقین دہانی کرانےکی تعریف کی۔

شام میں اگلے ماہ مجوزہ پارلیمانی انتخابات کے حوالے سے یورپی رہنماؤں اور روسی صدر کے موقف مختلف تھے۔

یورپی رہنماؤں کا خیال تھا کہ ان انتخابات کو روک دینا چاہیے جبکہ روس کا موقف ہے کہ شام کے آئین کے تحت پارلیمانی انتخابات کا انعقاد ہو رہا ہے۔

فرانس کے صدر فرانسو اولاند نے کہا کہ شام میں پارلیمانی انتخابات نہ صرف اشتعال انگیز ہیں بلکہ غیر حقیقی بھی۔