آگ کا پیچھا کرنے والا رضاکار

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption گذشتہ چار دہائیوں میں بپن گناترا نے ایک 100 سے زیادہ گھروں میں لگنے والی آگ کو بجھانے کا کام کیا ہے

بھارت کے مشرقی شہر کولکتہ میں اپنے کمرے میں اکڑوں بیٹھا بپن گناترا کہتا ہے ’آگ بات کرتی ہے۔ آگ لال اور نیلے رنگ میں آتی ہے۔ نیلے رنگ والی بہت مہلک ہوتی ہے اور آواز بتا دیتی ہے کہ شعلہ کس چیز پر بلند ہو رہا ہے۔‘

بپن گناترا 59 سال کا ایک خستہ حال شخص ہے۔ وہ کوئی پیشہ ور آگ بجھانے والا نہیں ہے۔ سکول میں تعلیم سے کنارہ کش ہوکر اس نے زندگی میں بہتیرے کام کیے۔ کبھی پٹ سن کا تاجر رہا تو کبھی بجلی درست کرنے والا بن گیا۔ اور دوسرے وقتوں میں وہ پورے شہر میں آگ کے پیچھے بھاگتا رہا ہے۔

ڈیڑھ کروڑ آبادی والے شہر میں گذشتہ چار دہائیوں میں اس نے ایک 100 سے زیادہ گھروں میں لگنے والی آگ کو بجھانے کا کام کیا ہے، لوگوں کی جان بچائی ہے اور ملبہ صاف کیا ہے۔

انھوں نے کہا: ’آپ کہہ سکتے ہیں کہ میری زندگی میں ایک ہی دلچسپی ہے۔ اور وہ آگ ہے۔‘

اس کے کمرے میں دیکھیں تو آپ کو لگے گا کہ یہ تنہا شخص سچ بول رہا ہے۔ ایک کونے میں ایک میز اور ایک عجیب طرح کی کرسی ہے۔ ایک چھوٹا سا ٹی وی سیاہ دیوار پر ٹنگا ہے اور دوسری جانب دیوار پر ایک الماری میں اس کی سندیں اور ایوارڈز ہیں ایک نیلی بالٹی میں کیلے رکھے ہیں اور وٹامن اور گیس کی ٹیبلٹس کے علاوہ نیند کی گولیاں بھی ہیں۔

مسٹر گناترا کو نیند نہیں آتی ہے۔ وہ ٹی وی پر آگ کی خبر دیکھ کر اسے بجھانے دوڑتا ہے۔ جب کبھی اسے آگ کی خبر ملتی ہے وہ فائر بریگیڈ کو فون کرتا ہے، ٹیکسی لیتا ہے اور جائے حادثہ پر پہنچ جاتا ہے۔

Image caption کولکتہ میں آگ لگنے کے واقعات بھارت بھر میں سب سے زیادہ پیش آتے ہیں

کولکتہ آگ کا شہر ہے۔ سنہ 2014 میں دو ہزار آگ لگنے کے واقعات میں 347 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ 1749 افراد زخمی ہوئے۔ گذشتہ سال آگ لگنے کے 1600 واقعات میں 143 افراد ہلاک جبکہ 974 افراد زخمی ہوئے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ شہر اس کے آگے بجھانے والے عملے کے 1258 افراد کو بھارت میں سب سے زیادہ کام رہتا ہے۔ مسٹرگناترا کو بھی کام کی کمی نہیں۔ ایک ایک دن میں اسے تین تین آگ سے نمٹنا پڑ چکا ہے۔

شہر میں فائر سروس کے سربراہ گوڑ پرساد گھوش کا کہنا ہے کہ ’وہ بہت بہادر شخص۔ آگ بجھانے کی پیشہ ور تربیت نہ ہونے کے باوجود وہ بہت اچھا کام کرتا ہے۔ وہ ہمارے آگ بجھانے والے عملے کے لیے گائیڈ کے طور پر کام کرتا ہے اور ہمارے سامان استعمال کرتا ہے اب وہ ایک پیشہ ور کے طور پر کام کرنے لگا ہے۔‘

بچپن میں گناترا جب بھی آگ بجھانے والی گاڑی کے سائرن سنتا اس کے پیچھے بھاگتا اور جائے حادثہ تک پہنچ جاتا۔ وہ کہتے ہیں: ’وہاں جا کر میری حرکت بدل جاتی میں آگ بجھانے والے کو لوگوں کو بچاتے اور اپنا کام کرتے دیکھتا اور اس سے مجھے بہت جوش ملتا۔‘

ایک بار جب گناترا ایک سکول میں بجلی مستری کے طور پر کام کرہا تھا تو اس نے سنا کہ ایک بڑے بینک میں آگ لگ گئی ہے۔ وہ وقفے میں سکول سے بھاگ کر جائے حادثہ پر پہنچ گیا۔ وہاں اس نے ایک تالاب سے پائپ لگا کر آگ تک پانی پہنچانے میں مدد کی۔

وہ یاد کرتا ہے کہ بینک مینیجر کس طرح باہر آیا تھا، وہ رکا، شاید کچھ بھول گیا تھا۔ پھر اندر گیا اور پھر کبھی باہر نہ نکل سکا۔ اس کے بعد سے اس نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

Image caption گناترا کا کہنا ہے کہ وہ آگ سے باتیں کرتا ہے اور اسے قابو میں کر لیتا ہے

سنہ 1990 کی دہائی میں جب معروف ہاوڑہ پل پر ایک ٹینکر الٹ گیا تھا تو اس نے آگ بجھانے والوں کو وہاں پہنچایا اور یہ یقین دہانی کرائی کہ کوئی دھوئیں کی زد میں نہ آئے۔

ایک بار کیننگ سٹریٹ میں آگ لگی تھی تو اس نے ایک حاملہ خاتون کی چار منزلہ عمارت سے کودنے سے باز رکھا اور پھر ایک سٹریچر بنا کر اسے پڑوس کی عمارت پر منتقل کیا اور اس کی جان بچائي۔

پانچ سال پہلے اس کی جان تقریبا جا چکی تھی جب وہ سٹرانڈ روڈ پر لگنے والی ایک آگ میں پھنس گیا تھا اور دو گھنٹے تک پھنسا رہا۔

’باہر موجود فائر مین نے یہ خیال کر لیا کہ میں مر چکا ہوں۔ میں کسی طرح وہاں سے نکلا لیکن زخمی ہو چکا تھا۔ تاہم ہسپتال میں تیزی سے صحتیاب ہونے لگا۔ میں خوش قسمت تھا۔‘

آگ سے جنگ بہت خطرناک ہے کبھی کبھی شعلوں کی واضح جیت ہوتی ہے اور مسٹر گناترا اور دوسرے آگ بجھانے والے صرف لاشیں اٹھاتے ہیں۔

سنہ 2010 میں جب سٹیفن کورٹ کی چھ منزلہ عمارت میں آگ لگی تھی تو وہ پہلی منزل پر چڑھ کر اگلی منزل پر پھنسے لوگوں کو عمارت سے نہ کودنے کے لیے کہتا رہا۔

’تیسری منزل پر ایک شخص کو میں چیخ چیخ کر نہ کودنے اور امداد کے انتظار کے لیے کہتا رہا لیکن پھر میں نے بھٹ کی آواز سنی اور دیکھا تو چاروں طرف خون بہہ رہا تھا۔

Image caption گناترا کا کہنا ہے کہ آپ آگ سے تیز نہیں بھاگ سکتے

’اسی طرح ایک خاتون کی لاش میں نے اٹھائی اس کے گلے میں انڈین ایئرلائنز کا آئی کارڈ تھا۔ کبھی کبھی آگ میں عجیب چیزیں بچ جاتی ہیں۔

’اس آگ میں 40 سے زیادہ افراد مرے تھے اور میں ان کی لاشیں اٹھا رہا تھا۔‘ اسی طرح سنہ 2011 میں ایک ہسپتال میں لگنے والی آگ تباہ کن تھی جس میں 89 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

مسٹر گناترا چار منزل تک دھوئیں سے بھری سیڑھیوں سے گئے تاکہ کسی کو زندہ پائیں تو بچائیں۔ انھوں ایک ملا۔ ’مجھے ایک مریض ملا جو بیڈ سے گر گیا تھا اور پھر وہ آئی سی یو میں مر گیا۔ دھوئیں سے بھرے ایک کمرے میں فرش پر اور بیڈ پر میں نے کم از کم چھ سات لاشیں دیکھیں۔‘

لیکن اس سب پر سوچنے کے لیے وقت نہیں ہے۔ جیسے ہی کہیں ٹی وہ پر آگ کی خبر آتی ہے مسٹر گناترا 21 سال پرانی وردی پہنتے ہیں جو کسی فائر مین نے انھیں تحفے میں دی تھی سر پر زرد پلاسٹک کا ہیٹ ڈالتے ہیں، ہاتھ میں ٹارچ لیتے ہیں اور گلے میں دھات کا آئی کارڈ ڈالتے ہیں اور جائے حادثہ کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔

اس ساری بہادری کے لیے اس تنہا شخص کو اس کے دوست 2500 روپے ماہانہ دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’میں آگ سے بات کرتا ہوں پھر اسے قابو کر لیتا ہوں۔ جب وہ میری طرف بڑھتی ہے تو میں ایک ہوز لے کر زمین پر لیٹ جاتا ہوں اور اسے اوپر سے گزرنے دیتا ہوں۔ آپ اس درندے سے تیز نہیں بھاگ سکتے، ہرا نہیں۔ بس آپ اس کو قابو میں کر سکتے ہیں۔‘

اسی بارے میں