چین: لفٹ میں خاتون کی ہلاکت کے بعد لوگ برہم

Image caption سماجی رابطوں کی سائٹوں پر لکھے گئے پیغامات میں لوگوں نے عملے کو کاہل اور غیر ذمہ دار قرار دیا ہے

چین میں یہ خبر سامنے آنے کے بعد کہ ایک عورت 30 دن تک لفٹ میں محصور رہنے کے بعد ہلاک ہوگئی ہے، لوگ انٹرنیٹ پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

زیان کے علاقے میں ایک رہائشی عمارت میں لگی لفٹ کو مرمت کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ اس لفٹ کو جب ایک ماہ بعد کھولا گیا تو اس میں سے ایک عورت کی لاش برآمد ہوئی۔

اس واقعے نے جہاں ایک بار پھر چین میں لوگوں کی سلامتی کے ریکارڈ کے بارے میں خدشات کو ابھارا ہے، وہیں لوگ سماجی رابطوں کی سائٹوں پر حیرت اور غم کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔

چین میں مقبول سماجی رابطوں کی سائٹ ویبو پر ایک خاتون صارف نے لکھا ہے کہ ’30 دن، کتنی تکلیف ہوئی ہوگی اسے، میرا دل اس کے لیے دکھ سے بھر گیا ہے۔‘

اس 43 سالہ خاتون کی موت پر دیگر لوگوں نے بھی سماجی رابطوں کی سائٹوں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔

ان اطلاعات کے سامنے آنے کے بعد کہ لفٹ کو بند کرنے والے عملے نے پہلے اس بات کو یقینی نہیں بنایا کہ کہیں لفٹ میں کوئی شخص تو موجود نہیں ہے، ملک بھر میں غصہ پایا جاتا ہے۔

ایک شخص نے ویبو پر تبصر کیا ہے کہ ’لفٹ کو بند کرنے سے پہلے اسے کھول کر چیک کرنا کتنا مشکل تھا؟‘ ایک اور صارف نے اس طرف دھیان دلایا ہے کہ ’اگر ایک بہرا یا گنگا اور بہرا شخص لفٹ میں ہو تو کیا ہو؟‘

سماجی رابطوں کی سائٹوں پر اس بارے میں لکھے گئے دیگر پیغامات میں لوگوں نے عملے کو کاہل اور غیر ذمہ دار قرار دیا ہے۔

’یہ کوئی حادثہ نہیں ہے بلکہ اس کا ذمہ دار وہ عملہ ہے جس میں اخلاقیات کی کمی ہے۔‘

چینی میڈیا نے خبر دی ہے کہ اس لفٹ کی دیکھ بھال کی ذمہ دار کمپنی کے افسران کو غیر ارادی قتل کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اسی بارے میں