’ایڈز کی افواہ کا شکار بچے کو نیا سکول مل گيا‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سری لنکا میں تقریباً 100 بچے ايچ آئی وی یا ایڈز کے مرض میں مبتلا ہیں

سری لنکا میں حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس بچے کی تعلیم کے لیے سکول تلاش کر لیا ہے جس کے ایڈز کا مریض ہونے کی افواہوں کے بعد دیگر طلبہ کے والدین کے مطالبے کے بعد سکول سے نکلنا پڑا تھا۔

وزیر تعلیم اکیلا ویراج کریاوسم نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایک نجی کمپنی سکول کی پڑھائی ختم ہونے تک اس چھ سالہ بچے کی تعلیم کا خرچہ اٹھائے گی۔

انھوں نے مزید بتایا کہ عطیہ دہندگان اس بچے اور ان کی والدہ کے لیے نیا گھر بھی دیں گے۔

اس بچے کی ماں نے بتایا تھا کہ 10 مختلف سکولوں کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد بالآخر وہ اسے ایک سکول میں داخل کرانے میں کامیاب ہوئی تھیں۔

لیکن ابھی اس بچے کا سکول میں پہلا دن مکمل نہیں ہوا تھا کہ باقی بچوں کے والدین نے اپنے بچوں کو سکول سے نکال لیا۔

گو کہ اس بچے کا طبی سرٹیفیکٹ بھی پیش کیا گیا ہے کہ وہ ایڈز سے متاثر نہیں ہے۔

خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سال تک سری لنکا کی تقریباً دو کروڑ دس لاکھ کی آبادی میں سے میں 3200 بالغ افراد اور 100 بچے ایچ آئی وی یا ایڈز کے مرض کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔

ایچ آئی وی کی وبا 1980 کی دہائی میں منظرِ عام پر آئی تھی اور اب تک اس سے 75 ملین افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

تاہم اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ایڈز کی ایک رپورٹ میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ 2030 تک ایڈز کی وبا پر قابو پا لیا جائے گا کیونکہ اب متاثرہ نئے مریضوں اور ایڈز کے باعث اموات میں کمی واقع ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں