ایران کی جانب سے بیلاسٹک میزائل کے نئے تجربات

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رواں برس جنوری میں امریکہ نے ایران کے سابقہ تجربات کے ردعمل میں ایران کے میزائل پروگرام کو نشانہ بناتے ہوئے اس پر پابندیاں عائد کی تھیں

امریکی دباؤ کو نظر انداز کرتے ہوئے ایران نے فوجی مشقوں کے دوران بیلاسٹک میزائل کے متعدد نئے تجربات کیے ہیں۔

پاسدرانِ انقلاب کی جانب سے منگل کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تجربات ملکی قوت کا مظہر ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ یہ میزائل تجربے ملک کے محتلف مقامات پرگئے تاہم ان مقامات کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔

ادھر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو اس معاملے کو سلامتی کونسل میں اٹھایا جائے گا۔

رواں برس جنوری میں امریکہ نے ایران کے سابقہ تجربات کے ردعمل میں ایران کے میزائل پروگرام کو نشانہ بناتے ہوئے اس پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال اکتوبر میں ایران نے اپنے اہداف تک پہنچنے والے بلاسٹک میزائل کا کامیاب تجریہ کیا تھا جو جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر گذشتہ برس جولائی میں معاہدہ طے پایا تھا جس کا مقصد ایران کی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔

اقوام متحدہ سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران نے یہ تجربات کر کے سلامتی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی کی ہے۔

تاہم دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہیں اور وہ میزائل کے حوالے سے کام جاری رکھے گا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سرکاری ٹی وی پر ایک میزائل تجربے کی تصاویر بھی جاری کی گئیں جو رات گئے کیا گیا تھا۔ بتایا گیا کہ وہ میڈیم رینج کا میزائل تھا جس کا نام قائم ون ہے۔

فضائیہ کے سربراہ برگیڈئیر عامر علی حاجی زادہ نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ میزائل نے 700 کومیٹر کے فاصلے پر موجود ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان مارک ٹونر نے کہا ہے کہ وہ میزائل تجربے کی صورت میں ہونے والی اس پیش رفت سے آگاہ ہیں اور اس کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر اس اطلاع کی تصدیق ہوگئی تو اس معاملے کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھایا جائے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس معاملے پر پریس کےموزوں ردعمل کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

مارک ٹونر نے کہا کہ امریکہ ایران کے میزائل پروگرام کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اپنے یک طرفہ طریقوں کا سختی سے اطلاق جاری رکھے گا۔

ایران کا دعوی ہے کہ اس کے میزائل مکمل طور پر روایتی مزاحمت کا سامنا کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں اور یہ 2000 کلومیٹر تک ہدف بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو مشرقِ وسطی میں امریکی اڈوں اور اسرائیل تک پہنچ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں