’ناردرن تھنڈر کا ہدف ایران نہیں ہے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

فضا لڑاکا طیاروں کی گھن گرج سے گونج رہی تھی اور زمین ٹینکوں کی گڑگڑاہٹ سے کانپ رہی تھی۔ بم اور میزائلوں کے دھماکوں سے کان پھٹے جاتے تھے۔ صحرا میں اڑتی دھول اور دھوئیں کا یہ منظر کسی جنگ کا نہیں بلکہ سعودی عرب میں ناردرن تھنڈر (رعد الشمال) کے نام سے کی جانے والی خطے کی سب سے بڑی فوج مشقوں کے آخری دن کا ہے۔

ناردرن تھنڈر فوجی مشقوں میں مشرق وسطی، ایشیا اور افریقہ کے 20 ملکوں کی افواج نے حصہ لیا۔ یہ مشقیں سعودی عرب کے شمالی صحرائی علاقے میں 12 دن تک جاری رہیں۔

ان جنگی مشقوں کے اختتامی مرحلے میں پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف، پاکستان فوج کے سربراہ راحیل شریف، مصر کے فوجی صدر عبدالفتح السیسی اور سوڈان کے صدر عمر البشیر نے سعودی عرب کے بادشاہ سلمان کے ساتھ شرکت کی۔

سعودی حکام کے مطابق حفرالبتین کے شمال مشرقی شہر اور عراق اور کویت کی سرحدوں کے قریب ہونے والی یہ سب سےاہم اور خطے کی تاریخ میں سب سے بڑی فوجی مشقیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نادرن تھنڈر نامی مشقیں سعودی عرب کے شمال مشرقی علاقوں میں ہو رہی ہیں

مشقوں کے اختتامی دن دوگھنٹوں پر محیط ایک فرضی فوج کارروائی میں لڑاکا ہیلی کاپٹروں، جدید ترین جنگ طیاروں اور ٹینکوں نے حصہ لیا۔ سعودی حکام نے ان مشقوں کو خطے کے اتحاد کی علامت قرار دیا۔

گذشتہ سال شاہ عبداللہ کی وفات کے بعد شاہ سلمان کی تخت نشینی سے سلطنت کی پالیسیوں میں واضح تبدیلی آئی ہے اور سعودی عرب نے خطے کے امور میں جارحانہ کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔

سعودی عرب ملک کے جنوب میں واقع ہمسایہ ملک یمن میں حوثی قبائل کے خلاف لڑنے والی فوج کی قیادت کر رہا ہے دوسری طرف شمال میں شام میں اسد حکومت اور دولت اسلامیہ کے خلاف کی جانے والی فضائی کارروائیوں میں امریکہ کے ساتھ شامل ہے۔ اس کے علاوہ اس نے شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف ترکی کے ساتھ مل کر زمین کارروائیاں کرنے کی بھی پیش کش کی ہے۔

شام اور یمن میں ایران اور سعودی عرب مخلاف قوتوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں اور خطے میں بڑھتی ہوئی اسی کشیدگی کے پس منظر میں نادرن تھنڈر نامی فوجی مشقیں منعقد کی گئی ہیں۔

سعودی حکام نے ان مشقوں کی زیادہ تفصیلات جاری نہیں کیں۔

سعودی فوج کے بریگیڈیئر جنرل احمد النصاری نے گذشتہ ہفتے ذرائع ابلاغ کو بتایا تھا کہ ان مشقوں کو مقصد خطے میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنا ہے اور یہ ایران کے خلاف نہیں ہیں۔

اسی بارے میں