’قومی سلامتی،دہشتگردی کے مقدمات میں 1400 کو سزا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حقوقِ انسانی کے لیے سرگرم تنظیمیں اور مغربی ممالک چین پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ ان قوانین کو داخلی سطح پر حکومت مخالف آواز دبانے کے لیے استعمال کر رہا ہے

چین میں عدالتوں نے گذشتہ برس قومی سلامتی اور دہشت گردی سے متعلق مقدمات میں 1400 سے زیادہ افراد کو سزائیں سنائیں۔

اس بات کا انکشاف ملک کے چیف جسٹس زو شیانگ نے کیا ہے اور یہ تعداد 2014 کے مقابلے میں دوگنی ہے۔

چین میں سنہ 2015 میں قومی سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی کے نئے قوانین نافذ کیے گئے تھے۔

چین کی سپریم پیپلز کورٹ کے سربراہ جسٹس زو شیانگ نے یہ اعدادوشمار اتوار کو نیشنل پیپلز کانگریس کے سالانہ اجلاس میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں بتائے۔

ان کا کہنا تھا کہ چینی عدالتوں نے سنہ 2015 میں 1419 افراد کو ’قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے اور پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہونے‘ کے جرم میں سزائیں دیں۔

سنہ 2014 میں ایسے ’جرائم‘ میں سزا پانے والوں کی تعداد 712 بتائی گئی تھی۔

2015 کے اعدادوشمار کے مطابق ’پرتشدد دہشت گردی سے متعلق جرائم‘ میں سزا پانے والوں کی تعداد 1084 رہی جبکہ 335 کو ’قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے‘ کا مجرم قرار دیا گیا۔

تاہم رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ 335 افراد کس طرح قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے مرتکب ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قوانین کے ناقدین کا کہنا ہے کہ انھیں حکومت کے مخالفین اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے

چین کے قوانین کی ماہر سوزن فائنڈر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر آپ قومی سلامتی سے متعلق جرائم کو دیکھیں تو چین میں حقوقِ انسانی کے کارکنوں میں سے کچھ کو انھیں جرائم پر سزائیں ملی ہیں۔‘

حقوقِ انسانی کے لیے سرگرم تنظیموں اور مغربی ممالک چین پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ وہ ان قوانین کو داخلی سطح پر حکومت مخالف آواز دبانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

ان قوانین کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کا دائرۂ عمل بہت وسیع ہے اور انھیں حکومت کے مخالفین اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔

حقوقِ انسانی کی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ چینی حکومت ان قوانین کی مدد سے ملک کے شمال مغربی صوبے سنکیانگ میں علیحدگی پسند تحریک کو کچلنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے گذشتہ برس مارچ میں کہا تھا کہ ان قوانین کے مذہبی اقلیتوں یا حکومت کے ناقدین کے خلاف استعمال کو روکنے کے لیے کوئی ’سیف گارڈ‘ موجود نہیں ہے۔

اسی بارے میں