’یہ وہ جگہ نہیں جو دن میں بھی آسیب زدہ لگتی تھی‘

Image caption کشمیر کے ایک صحافی سے زبیر احمد نے بات چیت کی

سنہ 1990 کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی برف پوش پہاڑیوں کے دامن میں واقع حسین وادی میں زندگی اور موت کے درمیان فاصلہ بہت کم رہ گیا تھا۔

سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان آئے دن کے تصادم میں جہاں فریقین کے لوگ مارے جاتے ہی تھے وہیں عام شہری بھی مارے جاتے تھے۔

وادی کشمیر کے ہر شہر اور قصبے میں جگہ جگہ فوجی بنکر اور ان پر جالیوں کی چادریں بچھی ہوتی تھیں، جدھر دیکھو ادھر بندوق بردار سکیورٹی کے پہرے ہوتے تھے اور سڑکوں اور چوراہوں پر حصار بندی۔ آئے دن بازار بند رہتے تھے۔ راتیں کرفیوزدہ اور دن سناٹے کا شکار۔

یہ تھا کشمیر کا حال 1990 کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں۔ میں ان دنوں ایک انگریزی اخبار میں کام کرتا تھا اور دہلی سے اکثر رپورٹنگ کے لیے کشمیر جایا کرتا تھا۔ ان دنوں وہاں ایک صحافی کی زندگی بھی خطرے سے خالی نہیں تھی۔

پوری وادی یا تو آزادی یا پھر پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونجتی رہتی تھی۔ سکیورٹی اہلکاروں کو ’ہندوستانی کتے‘ جیسی گالیاں سننی پڑتی تھیں۔ عام کشمیریوں کے گھروں میں زبردستی تلاشی لینا عام بات تھی۔

Image caption سکیورٹی تو اب بھی لیکن اس میں پہلے جیسی تلخی نہیں

پولیس سٹیشن تو تھے لیکن پولیس غائب رہتی تھی۔ اس وقت کے کشمیری اب یہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ سمجھے تھے کہ ’آزادی اب بس ملنے ہی والی ہے۔‘

بعض کے نزدیک وہ مذہب جنگ تھی۔ ایک بار سرینگر کے معروف لال چوک پر مجھے ایک سکیورٹی اہلکار ملا، کہنے لگا، ’دہلی سے آئے ہو؟ صحافی ہو گے؟‘

میں نے کہا، ’جی ہاں۔‘ اس نے کہا ’یہاں تو مذہبی جنگ ہے۔‘ وہ اتر پردیش سے آیا تھا۔ اس کے باس نے مجھے بعد میں بتایا کہ ’شدت پسند چونکہ مسلم ہیں اسی لیے سکیورٹی والے اسے مذہبی جنگ سمجھتے، انھیں ہم نہیں بتاتے۔‘

لیکن وہ مکمل طور پر غلط بھی نہیں تھے۔ اس وقت بہت سے شدت پسندوں نے بتایا تھا کہ وہ جہاد کر رہے ہیں۔

سیاسی سرگرمیاں ’منقطع‘ تھیں اور ریاست میں گورنر راج نافذ تھا۔ تشدد عام بات تھی۔ ماحول ہمیشہ کشیدہ رہتا تھا۔ سیاحت ختم ہو چکی تھی۔ کشمیر کی معیشت متاثر تھی۔

گذشتہ ہفتے 22 سالوں کے ایک لمبے عرصے کے بعد میں وادی میں تھا۔ ایئر پورٹ سے ہوٹل تک کے آدھے گھنٹے کے سفر کے دوران یہ محسوس ہوا کہ میں اس شہر میں نہیں واپس آیا ہوں جو دن میں بھی ’آسیب زدہ‘ لگتا تھا۔

Image caption زیادہ تر مندروں کی از سر نو تعمیر کی گئی ہے

اسی دن شام کو میں لال چوک گیا۔ کہتے ہیں شہر کے دل کی دھڑکن یہاں محسوس کی جا سکتی ہے۔

دکانیں اور بازار خریداروں سے بھرے تھے۔ سڑکوں کے دونوں کنارے مہنگی اور سستی گاڑیوں سے پر تھے۔ یہاں کیفے کلچر بھی آ چکا ہے۔ نئے کیفے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں سے بھرے تھے۔

وہاں موجود کچھ ایسے نوجوان ملے جو سنہ 1994 میں کشمیر کے میرے آخری دورے کے بعد پیدا ہوئے تھے۔

ایک لڑکے نے کہا: ’تحریک کے بارے میں ہم نے صرف سنا ہے۔ اس وقت سکول اور کالج بند ہو گئے تھے۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ کشمیریوں کو آزادی ملتے ملتے رہ گئی۔‘

اگلے دن میں وزیر اعلی کی رہائش گاہ سے گزر رہا تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ اونچی دیواروں سے گھری یہ قلعہ نما رہائش گاہ بدنام زمانہ ’پاپا ٹو‘ ہے۔

میں حیران رہ گیا۔ یہ وہی عمارت تھی جس کے اندر اس وقت کے شدت پسندوں کو بغیر وارنٹ کے مہینوں تک رکھا جاتا تھا۔

سرکاری سطح پر اسے ’جوائنٹ پوچھ گچھ سیل‘ کے نام سے جانا جاتا تھا جبکہ کشمیری اس کو ’ٹارچر سیل‘ کے نام سے پکارتے تھے۔

Image caption زبیر احمد نے 22 سال بعد کمشیر کا ایک بار پھر دورہ کیا

میں نے اس زمانے میں ’پاپا ٹو‘ میں بہت سے شدت پسندوں سے ملاقات کی تھی جن میں سے ایک حرکت المجاہدین کے سیف اللہ بھی تھے۔

مجھے وہ ملاقات یاد نہیں تھی۔ اس بار میں جب ان سے ملا تو انھوں نے یاد دلایا: ’اس زمانے میں میری داڑھی بھی نہیں نکلی تھی۔ میں نے پاکستان میں ٹریننگ حاصل کی اور یہاں جہاد کرنے واپس لوٹا۔‘

اس زمانے میں سرینگر کا پولیس ہیڈ کوارٹر کسی فوجی چھاؤنی سے کم نہیں لگتا تھا۔

اس بار جب میں وہاں گیا تو اندر داخل ہوتے وقت میری ٹھیک سے تلاشی بھی نہیں لی گئی۔ کچھ بندوق بردار سپاہی عمارت کے باہر پہرہ ضرور دے رہے تھے، لیکن ماحول میں کوئی کشیدگی نہیں تھی۔

کشمیری پنڈتوں کو جنوری سنہ 1990 میں اپنے گھروں کو چھوڑ کر وادی سے اچانک بھاگنا پڑا تھا۔

ایک سال بعد میں سری نگر کے ریناواڑي محلے میں کشمیری پنڈتوں کے گھروں کو دیکھنے گیا تھا۔ ان کے گھروں میں بکھرے سامانوں کو دیکھ کر مجھے لگا تھا انھیں اچانک بھاگنا پڑا تھا۔

اس بار میں وہاں ایک بار پھر گیا۔ اب وہاں کوئی کشمیری پنڈت نہیں رہتا۔ انھوں نے اپنے گھروں کو کشمیری مسلمانوں کے ہاتھوں فروخت کر دیا ہے۔

میں نے ایک کشمیری مسلمان سے پوچھا یہاں کے کشمیری پنڈت کہاں گئے؟

Image caption کشمیر میں زندگی معمول پر آ گئی ہے

انھوں نے کہا: ’مجھے زیادہ علم نہیں۔ میں اس واقعے کے بعد پیدا ہوا تھا۔ میں نے ان کے بارے میں سنا ہے کہ وہ ادھر رہتے تھے، لیکن اب وہ یہاں نہیں رہتے۔‘

پاس کے ایک مندر بھی گیا جسے اس زمانے میں نقصان پہنچا تھا۔ اب اس مندر کی مرمت ہو چکی ہے۔ اس بار میں نے کئی مندروں کا دورہ کیا اور پتہ چلا کہ ایک دو کے علاوہ تمام مندروں کی مرمت ہو چکی ہے۔

بہت سے کشمیری پنڈت وادی چھوڑ کر نہیں گئے۔ ان میں سے زیادہ تر نے کہا کہ کئی سالوں تک وہ سہمے سہمے رہے۔ سبزی خریدنے کے لیے بھی گھروں سے نکلنا مشکل تھا۔ آج وہ آزادی سے جہاں چاہتے ہیں جا سکتے ہیں۔

سکیورٹی فورس کے ایک اعلی افسر کے کے شرما شدت پسند تحریک کے ابتدائی سالوں میں وادی میں تعینات تھے۔ آج ایک بار پھر وہ وادی میں تعینات ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’میں نے کشمیر کو جنت سے جہنم بنتے دیکھا ہے۔ اب یہ ایک بار پھر جنت بن گیا ہے۔‘

ان کی بات صحیح ہے، لیکن مکمل طور پر شاید نہیں۔ گذشتہ ایک دو سالوں میں وادی میں بدامنی پھیلی ہے۔

شدت پسندوں اور سکیورٹی کے درمیان تصادم میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ شدت پسندوں کے جنازوں میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شامل ہو رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption لیکن ایک بار پھر سے کشیدگی کی لہر نظر آ رہی ہے

پلوامہ کے کچھ نوجوانوں نے مجھے بتایا کہ ان کا ایک ساتھی دو ماہ پہلے ایک تصادم میں مارا گیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ ’شہید‘ ہو گیا۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ وہ بھی شاٹگن اٹھاکر جہاد کرنے کو تیار ہیں۔

کشمیر کے دانشور طبقے کے مطابق نوجوانوں میں بیزاری اور شدت پسندی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق ریاستی حکومت میں بی جے پی اور پی ڈی پی کی مخلوط حکومت میں باہمی کشیدگی اور ’بھارت میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری‘ کا اثر وادی میں بھی ہو رہا ہے۔

انھوں نے متنبہ کیا کہ اگر مرکزی حکومت نے بے یقینی کا دور ختم نہیں کیا تو عام لوگوں میں مایوسی مزید بڑھے گی۔

اسی بارے میں