42 سال بعد ماں بیٹی کا ملن

تصویر کے کاپی رائٹ Elisabet
Image caption الزبتھ پروے کا کہنا ہے کہ 42 سال بعد ماں بیٹی کا ملن کسی معجزے سے کم نہیں

الزبتھ پروے جورینڈل بھارت میں پیدا ہوئیں اور سنہ 1973 میں جب وہ چھ ماہ سے بھی کم عمر کی تھیں انھیں گود لیے جانے کے لیے بھارت سے دُور لے جایا گیا۔

جب وہ ڈھائی سال کی تھیں تو ایک سوئیڈش جوڑے نے اُنھیں گود لے کر اُنھیں ایک نئی زندگی دی۔

42 سال بعد انھوں نے خود کو جنم دینے والی ماں کا سُراغ لگایا جن کے بارے میں وہ ساری عمر سوچا کرتی تھیں اور دنوں کا ایک جذباتی ملن ہو سکا۔

سوئیڈن، اور ڈنمارک کی سرحد پر واقع شہر ہیلسنبورگ سے فون پر بات کرتے ہوئے انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کی اپنی والدہ سے ملاقات ’کسی معجزے سے کم نہیں تھی۔‘

پروے جورینڈل کے مطابق ’میری والدہ 21 برس کی تھیں جب اُن کی میرے والد سے شادی ہوئی۔ میرے والد ایک کسان تھے۔ شادی کے تین سال بعد ایک روز وہ کسی سے لڑائی کے بعد گھر لوٹے۔ وہ بہت غصے میں تھے۔ انھوں نے خودکشی کرلی۔ انھوں نے کیڑے مارنے والی دوا کھالی تھی۔

پروے جورینڈل کی والدہ اپنے والدین کے ہمراہ رہنے لگیں جو اُن کی شادی کروا کر نئے سرے سے اُن کی زندگی شروع کرنا چاہتے تھے۔

مسز جورینڈل نے کہا، ’لیکن وہ حاملہ تھیں اور وہ یہ بات جانتی بھی نہیں تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Elisabet
Image caption چھ ماہ کی عمر میں پروے اپنی ماں کے ساتھ

جب اُن کے خاندان کو اُن کے حاملہ ہونے کا علم ہوا تو وہ اُنھیں پُونے کے ایک خیراتی ادارے میں لے گئے جہاں انھوں نے ستمبر سنہ 1973 میں ایک بچی کو جنم دیا۔ مجھے بتایا گیا کہ چند ماہ تک وہ اس خیراتی ادارے میں رہیں، میری نگہداشت اور دیکھ بھال کی گئی۔‘

جب پروے جورینڈل ڈھائی سال کی ہوئیں تو ایک سوئیڈش جوڑے نے انھیں گود لے لیا جنھوں نے اور ایک نیا گھر اور نئی زندگی دی۔

لیکن میں ہمیشہ بھارت میں موجود اپنی ماں کے متعلق سوچتی رہی کہ وہ کون تھیں؟ کیسی تھیں؟ انھوں نے مجھے کیوں چھوڑا؟ میں جانتی تھی کہ میں اُن کا حصہ تھی اور مجھے اُنھیں ڈھونڈنے کی ضرورت تھی۔ میں اپنے تمام سوالوں کے جوابات حاصل کرنا چاہتی تھی۔‘

اُن کے لے پالک والدین اُن کی اس جدوجہد کے حامی تھے لیکن دوسرے لوگ اس بات کو نہیں سمجھ سکتے تھے کہ کیوں وہ ماضی کو کیوں کریدنا چاہتی ہیں۔ انھیں نصیحت کی جاتی تھی کہ ’آپ کے پاس یہاں ایک اچھی زندگی ہے۔ انھیں ان کے حال پر چھوڑدیں۔‘

پروے جورینڈل نے سنہ 1988 سے سرگرم انداز میں اپنی والدہ کی تلاش شروع کی اور دو عشروں کے بعد اُن کی تلاش مہاراشٹر کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں مکمل ہوئی۔

ابتدا میں پروے کے پاس کچھ خاص معلومات نہیں تھیں جن کی بنیاد پر وہ تلاش کرتیں۔ صرف اپنی والدہ اور نانا کے نام جو کہ گود لینے کے کاغذات میں درج تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Elisabet
Image caption پروے کو اپنی اصل ماں کی تلاش ہمیشہ سے تھی اور پھر وہ وہاں پہنچی جہاں ان کی ماں تھی

’مجھے احساس ہوا کہ اِن چیزوں کے ساتھ کہیں کسی کی تلاش کے لیے جانا کس قدر مشکل تھا۔ آپ ایک ارب 20 کروڑ آبادی والے ایک ملک میں کیسے کسی کو تلاش کرسکتے ہیں؟ یہ گھاس کے ایک ڈھیر میں ایک سوئی کو تلاش کرنے کے مترادف ہے۔آپ کے پاس لازمی طور پر صحیح ذرائع ہونے چاہیں۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ کس طرح درست بٹنوں کو دبانا ہے۔‘

سنہ 2014 میں انھوں نے بیلجیم میں اگینسٹ چائلڈ ٹریفیکنگ (اے سی ٹی) نامی ایک رضاکارانہ تنظیم سے رابطہ کیا۔

گذشتہ برس آٹھ اگست کو انھیں اے سی ٹی کی جانب سے ایک ای میل موصول ہوئی جس میں اُنھیں بتایا گیا کہ وہ اُن کی والدہ کو تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور اُس ای میل کے ساتھ چند تصاویر بھی منسلک تھیں۔

پروے کے مطابق ’میں اپنے احساسات بیان نہیں کرسکتی۔اس ای میل میں وہ شخصیت تھی جن سے ملنے کی میں مشتاق تھی اور پھر میں نے اُن کی تصویر دیکھی۔ یہ سب میرے تخیل سے دُور تھا۔ یہ ایک معجزہ تھا۔‘

ستمبر میں اپنی سالگرہ سے چند روز قبل وہ دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک کا سفر کرکے اُس خاتون سے ملنے کے لیے گئیں جنھوں نے پروے کو جنم دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Elisabet
Image caption ہوٹل کے کمرے میں اپنی ماں کے ساتھ جذباتی ملن کے دوران

پروے کے مطابق ’اور اچانک ہی میں وہاں تھی۔ اُن کے گھر کے باہر، اُن کے دروازے کے باہر۔ ایک سماجی کارکن میری والدہ سے رابطے میں تھیں اس لیے وہ میری آمد کی توقع کررہی تھیں۔ وہ بیٹھی ہوئی تھیں اور جب انھوں نے مجھے دیکھا تو وہ اُٹھ کر کھڑی ہوگئیں۔ میرے ہوش وحواس گُم ہوچکے تھے۔ میں نے کسی ردِعمل کا اظہار نہیں کیا۔ وہ خود بھی بدحواس تھیں۔‘

پروے جورینڈل کی والدہ کے دوسرے شوہر سے دو بچے ہیں۔ جن میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔ اُن کے دوسرے شوہر چند سال قبل وفات پاچکے ہیں۔ اس وقت وہ اپنے بیٹے، اُن کی بیوی اور اُن کے بچوں کے ہمراہ رہتی ہیں۔

انھوں نے اپنی پہلی اولاد کو راز میں رکھ رکھا تھا اس لیے اپنی پوتی اور پوتوں کے سامنے ’انھوں نے اپنے آنسو پی لیے۔ اور مجھے بھی ایسا ہی کرنا پڑا۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ میں رو نہیں سکتی۔‘

پروے جورینڈل کا اپنے بھائی سے تعارف اُن کی کزن کے طور پر کرایا گیا اور اُن کا خاندان اب تک حقیقت سے لاعلم ہے۔

اپنی والدہ سے بات چیت کرنے کے لیے پروے نے اُنھیں اپنے ہوٹل آنے کی دعوت دی۔

پروے کہتی ہیں ’ٹیکسی میں ہم نے ایک دوسرے کے لمس کو محسوس کیا اور دو گھنٹے پر محیط سفر کے دوران ہم نے مسلسل ایک دوسرے کے ہاتھ تھام کررکھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Elisabet
Image caption بھارت سے گود لیے جانے والے بچوں کے ساتھ

’انھوں نے کہا کہ وہ مجھے چھوڑنا نہیں چاہتیں۔ وہ مجھے اپنے ساتھ رکھنا چاہتی ہیں لیکن اُن کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ وہ نہیں جانتی تھیں کہ میں سوئیڈن میں رہتی تھی۔ انھوں کوئی اندازہ نہیں تھا کہ میں کہاں تھی۔ انھوں نے بتایا کہ اُن کا خیال تھا وہ مجھے دوبارہ کبھی نہیں دیکھ پائیں گی۔‘

پروے کا کہنا ہے کہ وہ اپنی والدہ سے اپنی ’حیرت انگیز مماثلت‘ دیکھ کر ’حیرت زدہ رہ گئی تھیں۔‘

اس مماثلت کے متعلق میرے بھارتی خاندان کے پاس ایک دلچسپ اصطلاح تھی کہ میں ان کی ’کاربن کاپی‘ ہوں۔ ہم دونوں ناصرف ایک جیسے نظر آتے تھے بلکہ ہمارا اندازِ گفتگو بھی ایک جیسا تھا، ہم ایک ہی طرح کے ہاتھ کے اشاروں کا استعمال کرتے تھے اور ہمارا اندازِ نشست بھی ایک جیسا تھا۔‘

پروے جورینڈل نے بتایا ’ایک ایسے خاندان میں پرورش پانا جہاں ’تمام افراد ایک جیسے تھے جبکہ میں مختلف تو یہ کچھ آسان نہ تھا۔‘ انھوں نے مزید کہا ’یہ کسی الگ سیارے پر زندگی گزارنےجیسا تھا۔‘

اُن کا کہنا ہے کہ اب وہ مزید اپنی والدہ سے دُور نہیں رہنا چاہتیں۔

’وہ اپنی زندگی کے ایک بہت بڑے حصے تک یہ بھاری بوجھ اُٹھاتی رہی ہیں جسے وہ کسی کو نہیں بتا سکتی تھیں۔ میں وہاں اُن کے لیے گئی۔ وہ میری والدہ ہیں۔ میں اُن کے قریب رہنا چاہتی ہوں اس لیے میں یہ کوشش کرنے والی ہوں کہ کم ازکم بھارت میں ایک سال گزار سکوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Elisabet
Image caption پروے نے دھائی سال کی عمر تک کا عرصہ پونے کے ایک یتیم خانے میں گزارے

وہ میرا خون ہیں میری حقیقی جڑیں ہیں۔‘

پروے جورینڈل نے دو روز گاؤں میں گزارے اور جب وہاں سے جانے کا وقت آیا تو اُن کا کہنا ہے کہ وہ لمحہ وہ کبھی نہیں بُھلا سکتیں۔

’ہماری آخری ملاقات میں میں اُن کو چھوڑ کر نہیں جانا چاہتی تھی۔ میں نے رونا شروع کردیا۔وہ میرے برابر میں بیٹھی تھیں اور میرے گالوں پر آنسو بہہ رہے تھے۔ انھوں نے اپنی ساڑھی کے پلو سے میرے آنسو صاف کیے اور کہا ’مت رو میری بچی۔‘

پروے کے مطابق ’اس وقت میں نے جانا کہ وہ مجھ سے محبت کرتی ہیں۔‘

اسی بارے میں