افغان مذاکرات کا اونٹ بیٹھے گا بھی یا نہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ w
Image caption پاکستان کی قیادت میں مصالحتی گروپ میں افغانستان، چین اور امریکہ بھی شامل ہیں

افغانستان میں مصالحتی عمل کے لیے قائم چار ملکی گروپ نے جس میں پاکستان بھی شامل ہے، افغان حکومت اور طالبان کے درمیان آمنے سامنے مذاکرات کی امید تو پیدا کر دی ہے لیکن ابھی تک اس سلسلے میں زیادہ پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی ہے۔

اس گروپ نے مارچ کے پہلے ہفتے میں مذاکرات کی نوید سنائی تھی لیکن دوسرا ہفتہ گزر جانے کے بعد بھی یہ عمل شروع نہیں ہو سکا ہے۔ اس کی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں؟

پاکستان، افغانستان، امریکہ اور چین پر مشتمل چار ملکی گروپ نے مسلسل کئی اجلاس منعقد کر کے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات سے متعلق امیدیں بڑھا دی تھیں لیکن مذاکرات کا یہ اونٹ کس کروٹ اور کب بیٹھے گا یہ ابھی تک واضح نہیں ہوسکا ہے۔

افغان طالبان کے مذاکرات سے صاف انکار کے بعد تو یہ بھی کہنا مشکل ہے کہ یہ اونٹ بیٹھ پائے گا بھی کہ نہیں۔

کافی تگ و دو کے بعد گذشتہ برس یہ اونٹ بظاہر پاکستان کے کہنے پر بیٹھ توگیا تھا لیکن ملا محمد عمر کے موت کی خبر کے دھچکے نے اسے نہ صرف اٹھا دیا بلکہ بھگا بھی دیا اور تب سے یہ ابھی تک ان چار ممالک کی گرفت میں دوبارہ نہیں آ سکا ہے۔

حزب اسلامی کے گلبدین حکمت یار نے حال ہی میں مذاکرات پر آمادگی ظاہر کر کے بات چیت کے ذریعے کسی حل کی امید قدرے بڑھائی ہے لیکن اس کے باوجود مبصرین کسی حتمی امن معاہدے کے بارے میں زیادہ پرامید نہیں۔

سینیئر صحافی شمیم شاہد کا کہنا ہے کہ پاکستان کی حد تک دہشت گردی سے متعلق ابہام بدستور قائم ہے۔

’افغانوں کی حد تک سب اس بات پر متفق ہیں کہ مصالحت ہونی چاہیے۔ لیکن پاکستان میں تقسیم ہے۔ یہاں حکومت بھی منقسم ہے، ادارے بھی منقسم ہیں اور سیاسی و مذہبی جماعتیں بھی تقسیم ہیں۔ وہ دہشت گردی کو اس طرح دہشت گردی قرار نہیں دے رہے جس طرح افغانستان میں کرتے ہیں۔‘

پاکستان نے گذشتہ برس بھی مارچ میں افغان حکام کو طالبان سے مذاکرات کی یقین دہانی کروائی تھی لیکن وہ بھی جولائی میں جا کر ممکن ہوئے۔

اس مرتبہ بھی مارچ کے پہلے ہفتے میں مذاکرات کی امید دلائی گئی لیکن ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں۔

کابل میں جلا وطنی کی زندگی گزارنے والے قوم پرست اور تجزیہ نگار جمعہ خان صوفی کہتے ہیں کہ دراصل افغان منقسم ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption حزب اسلامی کے گلبدین حکمت یار نے حال ہی میں مذاکرات پر آمادگی ظاہر کر کے بات چیت کے ذریعے کسی حل کی امید قدرے بڑھائی ہے

’افغانستان میں ایسے پیچیدہ اور سنگین مسائل کے حل کے لیے کوئی نیا میکنزم نہیں ہے۔ معاشرہ پشتون اور غیرپشتون میں تقسیم ہے، شمالی اتحاد موجودہ صورتحال کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں جبکہ طالبان کے پاس بھی کوئی پروگرام نہیں ہے۔‘

افغان معاشرہ اگر تقسیم ہے تو طالبان بھی منقسم ہیں۔ ایسی صورت میں ان مذاکرات کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ حکمت یار بھی تیار ہوگئے جبکہ افغان حکومت طالبان کے انکار کے باوجود بات چیت کے لیے پرامید ہے۔ تو ایسی صورتحال میں بامعنی مذاکرات کی امید کیسے کرنی چاہیے؟

شمیم شاہد کہتے ہیں کہ ’طالبان یقینا منقسم ہیں لیکن وہ ڈکٹیٹ کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ وہ سعودی عرب یا پاکستان کی خواہش ہو تو مذاکرات کی میز تک دو منٹ میں آسکتے ہیں اور صلح کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔‘

جمعہ خان کی طرح کئی مبصرین کے خیال میں افغان طالبان نے تمام عمر لڑائی کی ہے اور اس کے بغیر ان کی حیثیت کچھ نہیں رہتی ہے۔

’طالبان کو بھی معلوم ہے کہ اگر وہ پرامن افغانستان کی جانب آگئے تو ان کی موجودہ حیثیت ختم ہو جائے گی۔ دوسری جانب افغان حکومت کے اندر ایسے عناصر ہیں جو امن نہیں چاہتے۔ ان کا فائدہ جاری کرپشن میں ہے۔ انہوں نے افغانستان کے اندر اور باہر سرمایہ جمع کیا ہے۔ ان دونوں کو کسی قابل عمل حل کی جانب لیجانے کے لیے کسی بڑی طاقت کی ضرورت ہے۔‘

جمعہ خان یہ بھی کہتے ہیں کہ ’پاکستان میرے خیال میں اس معاملے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے لیکن وہ ڈکٹیٹ بھی نہیں کر سکتا۔ افغانوں کا مسئلہ ہے جب پرچم اور خلق دو جماعتوں کو اکٹھا کرنے کی روسیوں نے آخری دم تک کوشش کی لیکن وہ نہیں کروا سکے۔‘

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات مشکل نہیں لیکن اس میں ملوث فریق اتنے ہیں اور ہر کسی کے مفادات اتنے کہ یہ سب ان مذاکرات کے امکانات اور نتائج کو مزید پیچیدہ بناتے چلے آ رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ کی افغانستان میں موجودگی کو لے کر تمام فریق اپنا اپنا نظریہ رکھتے ہیں۔ کوئی ان کے مکمل انخلا میں خوش ہے تو کوئی چاہتا ہے کہ وہ فوراً نہ جائیں۔

ایسے میں مذاکرات کا ’کنفیوزڈ‘ اونٹ سر پٹ بھاگ رہا ہے اور اس کی باگ شاید کسی کے ہاتھ میں فی الحال نہیں۔

اسی بارے میں