دس کروڑ ڈالر کی چوری،بنگلہ دیشی بینک کے سربراہ مستعفی

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption سائبر چور بنگلہ دیش کے غیر ملکی زر مبادلہ میں سے دس کروڑ ڈالر سے زیادہ کی رقم لے اڑے

بنگلہ دیش کے مرکزی بینک کے سربراہ نے نیویارک کے فیڈرل ریزرو بینک سے بنگلہ دیش کے دس کروڑ ڈالر کی سائبر چوری کے معاملے پر استعفیٰ دے دیا ہے۔

عطیع الرحمان نے اپنا استعفی ملک کی وزیر اعظم شیخ حسینہ کو سونپا۔

امریکی بینک سے نامعلوم سائبر چوروں نے بنگلہ دیشی بینک کے پیسے فروری میں چوری کیے تھے تاہم عطیع الرحمان نے حکومت کو بروقت نہیں بتایا۔

وزیر خزانہ اے ایم اے موہتھ نے بتایا کہ انھیں اخبار میں شائع رپورٹ سے اس بات کا علم ہوا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق بینک کے اہلکاروں نے بتایا کہ اس چوری میں شامل گینگ نے چوری شدہ دستاویزات کا استعمال کرتے ہوئے نقد رقم کی منتقلی اس طرح کی جیسے وہ جائز ہو۔

اگر ان کی تمام درخواستیں قبول ہو جاتی تو وہ بغیر کسی مدافعت کے تقریباً ایک ارب ڈالر لے کر اڑ جاتے۔

بہر حال نقدی کی منتقلی اس وقت روک دی گئی جب دوسرے بینکوں میں دی جانے والی درخواستوں پر ان بینکوں کو شک ہونے لگا۔

اس چوری کے لیے گینگ نے بنگلہ دیش کے سنٹرل بینک کے اندرونی نظام کا مطالعہ کیا تاکہ وہ رقم منتقل کرتے وقت اطمینان بخش طور پر بینک کے اہلکار کے طور پر پیش آئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بنگلہ دیش نے امریکی بینک پر ابتدا میں ہی ہوشیار نہ ہونے کا الزام لگایا ہے

بہر حال زیادہ تعداد میں رقم کی منتقلی اور املا کی غلطیوں نے بینک کے عملے کو چوری کے بارے میں ہوشیار کر دیا۔

ڈو‏ئشے بینک نے ایک رقم حاصل کرنے والے کے نام کے ہجوں میں غلطی پائی اور وضاحت کے لیے سنٹرل بینک سے رجوع کیا تو یہ منتقلی روک دی گئی۔

اسی دوران نیویارک کے فیڈرل ریزرو بینک نے بنگلہ دیش کے سنٹرل بینک کو رقم کی منتقلی کی مشتبہ درخواست کے متعلق آگاہ کر دیا۔

شک اس وقت پیدا ہوا جب رقم بینکوں کے بجائے بڑی تعداد میں ذاتی کھاتوں میں بھیجی جانے لگي۔

ہیکروں نے جو پیسے چرائے وہ بالآخر سری لنکا اور فلپائن پہنچے۔ اس میں سے کچھ حصہ سری لنکا میں پکڑا گیا لیکن زیادہ تر فلپائن کے کسینوز میں دا‎ؤ پر لگا دیا گيا۔

بینک کے اہلکار کا کہنا ہے کہ وہ باقی رقم حاصل کرنے کے لیے حکام سے رابطے میں ہیں۔

بنگلہ دیش کی حکومت نے عوامی سطح پر نیویارک فیڈرل بینک پر رقم کی مشتبہ منتقلی کو بروقت نہ پہچاننے کا الزام لگایا ہے۔

اسی بارے میں