پولیس کے گھوڑے کی پٹائی پر سیاستدان پر مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ

بھارت میں پولیس نے ریاست اترکھنڈ میں ایک مظاہرے کے دوران پولیس کے ایک گھوڑے پر مبینہ طور پر حملہ کرنے کے الزام میں ملک کی حکمراں جماعت بی جی پی کے ایک سیاست دان کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

گنیش جوشی مسوری کے پہاڑی علاقے سے رُکن مجلسِ قانون ساز ہیں اور اُنھوں نے مبینہ طور پر ایک چھڑی کے ساتھ ’شکتی مان‘ نامی گھوڑے پر حملہ کیا تھا۔

یہ واقعہ پیر کو ریاست کے دارالحکومت دہرادون کی قانون ساز اسمبلی کے قریب اُس وقت پیش آیا جب بے جے پی کی جانب سے ریاست کی حکمران کانگریس پارٹی کے خلاف مظاہرہ کیا جا رہا تھا۔

جوشی کا کہنا ہے کہ اُن کے خلاف مقدمے کی سیاسی طور پر ہوا دی جا رہی ہے۔

جوشی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جس فوٹیج کو الیکٹرانک میڈیا کی جانب سے اس واقعے کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے وہ پُرانی ہے، جس میں میں نے گھوڑے کے سامنے چھڑی اُٹھائی ہوئی ہے۔ اس ویڈیو فوٹیج کا (مذکورہ واقعے) سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

انھوں نے مزید بتایا: ’جب کوئی گھوڑے کی زین کھینچتا ہے تو گھوڑا گر جاتا ہے اور اس کی ٹانگ میں فریکچر ہو جاتا ہے۔‘

مویشیوں کے معالج گھوڑے کا علاج کر رہے ہیں اور اطلاعات کے مطابق گھوڑے کی حالت تشویش ناک ہے۔

گھوڑے کی ہڈیاں مختلف جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہیں اور کچھ اطلاعات کے مطابق اُس کی ٹانگ کاٹنے کی نوبت آ سکتی ہے۔

اس واقعے کے بعد بھارت میں بہت سے لوگ سماجی رابطے کی ویب سائٹوں پر غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔

ٹوئٹر پر منگل کی صبح سے یہ ٹرینڈ چل رہا ہے: ’کیا گھوڑا ملک دشمن تھا۔‘

’ملک دشمن‘ کی اصطلاح حال ہی میں دہلی کی ایک یونیورسٹی کے طلبہ کی جانب سے ’بھارت مخالف‘ نعرے لگانے کے الزام میں گرفتاریوں کے حوالے سے استعمال کی جاتی رہی ہے۔

حکومت کی جانب سے طلبہ کی گرفتاریوں کا دفاع یہ کہہ کر کیا گیا تھا کہ وہ ’ملک دشمن‘ تھے۔