چین میں نئے اقتصادی نقشۂ راہ کی منظوری دے دی گئی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption وزیر اعظم لی کیچیانگ نے کہا کہ اگر ملک کو اقتصادی اہداف حاصل کرنے ہیں تو اصلاحات سے پہلو تہی ممکن نہیں

چین کی نیشنل پیپلز کانگریس نے اپنے سالانہ اجلاس کے اختتام پر ایک نئے پانچ سالہ اقتصادی منصوبے کی منظوری دے دی ہے اور وزیر اعظم لی کیچیانگ نے کہا ہے کہ ملک میں اقتصادی اصلاحات کی جائیں گی۔

بیجنگ میں منعقدہ اس اجلاس میں چین کا معاشی اور سیاسی ایجنڈا طے کیا جاتا ہے۔

نئے منصوبے کے تحت سنہ 2020 تک ملکی معیشت کی شرحِ ترقی کو ساڑھے چھ سے سات فیصد تک لایا جائے گا۔

گذشتہ سال چین میں ترقی کی شرح کا ہدف سات فی صد رکھا گيا تھا لیکن حقیقی ترقی 6.9 فیصد ہی ہو سکی اور یہ گذشتہ 25 سال میں سب سے کم ہے۔

چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے اور اس شرح کے حصول کے لیے زیادہ شرحِ سود والے قرضوں میں کمی، سرکاری اداروں کی سٹریم لائننگ اور مالیاتی بازاروں میں اصلاحات جیسی تجاویز دی گئی ہیں۔

یہ کانفرنس ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چینی معیشت سست روی کا شکار ہے اور ملک بھاری صنعت اور مینوفیکچرنگ پر ضرورت سے زیادہ انحصار سے نکل رہا ہے۔

کمیونسٹ پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے اجلاس کے دوران پیش کیے جانے والے نئے اقتصادی منصوبے کو نیشنل پیپلز کانگریس کے ارکان نے متفقہ طور پر منظور کیا۔

اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چینی وزیرِ اعظم لی کیچیانگ نے اقتصادی احیا کے لیے اصلاحات کی ضرورت پر زود دیا اور کہا کہ اگر ملک کو اقتصادی اہداف حاصل کرنے ہیں تو اصلاحات سے پہلو تہی ممکن نہیں۔

انھوں نے تسلیم کیا کہ جب سٹیل اور کوئلے کی صنعتوں سمیت سرکاری اداروں میں اصلاحات ہوں گی تو اس کا نتیجہ ملازمتوں کی کٹوتی کی شکل میں نکلے گا تاہم انھوں نے یقین دلایا کہ یہ کٹوتیاں بڑے پیمانے پر نہیں ہوں گی۔

چینی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ملک کی معیشت گرنے والی نہیں اور انھیں چینی معیشت کے روشن مستقبل پر پورا یقین ہے۔

اسی بارے میں