’بھارت ماتا کی جے‘ نہ کہنےپر رکن اسمبلی معطل

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption وارث پٹھان ممبئی میں بائکلا سے مجلس اتحاد المسلمین پارٹی سے منتخب رکن اسمبلی ہیں

انڈیا میں ان دنوں حب الوطنی پرگرما گرم بحث جاری ہے اور ہر کوئی وطن پرستی کی تعریف و تشریح میں لگا ہے اور ’بھارت ماتا کی جے‘ کہنا وطن پرستی کی علامت بن گيا ہے۔

اسی سلسلے میں انڈیا کی مغربی ریاست مہاراشٹر میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے رکن اسمبلی وارث پٹھان کو اسمبلی سے معطل کر دیا گیا ہے۔

ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر رام کدم نے بتایا، ’انھوں (وارث پٹھان) نے بھارت ماتا کی جے بولنے سے انکار کر دیا جس کے بعد انھیں عام رائے سے رواں سیشن کے لیے اسمبلی سے معطل کر دیا گيا ہے۔‘

اطلاعات کے مطابق جب وارث پٹھان پر ’بھارت ماتا کی جے‘ کہنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’یہ ہماری آئینی ذمہ داری نہیں ہے اور ہم جے ہند کہہ سکتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ تمام رکن اسمبلی اپنی اپنی پارٹی کے نظریات سے قطع نظر وارث پٹھان کی معطلی پر ایک رائے رکھتے تھے۔

اس سے قبل آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے صلاح دی تھی کہ ملک میں حب الوطنی کو بڑھانے کے لیے اس نعرے کی ضرورت ہے جسے مسترد کرتے ہوئے اسدالدین اویسی نے گذشتہ روز کہا تھا کہ وہ ’بھارت ماتا کی جے‘ نہیں کہیں گے چاہے ان کی گردن پر چاقو بھی رکھ دیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AnupamPkher
Image caption انوپم کھیر نے گذشتہ دنوں دہلی میں اظہار رائے کی آزادی پر جلوس نکالا تھا

انھوں نے کہا ہے کہ ہندوستان کے آئین میں ایسا کہیں نہیں لکھا ہے کہ ’بھارت ماتا کی جے‘ بولنا ضروری ہے۔

معروف اداکار انوپم کھیر نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’بھارتیوں کے لیے وطن پرستی کی واحد تعریف بھارت ماتا کی جے ہے، اس کے علاوہ باقی تمام چیزیں راہِ فرار اختیار کرنا ہے۔‘

خیال رہے کہ اس سے قبل انوپم کھیر نے بھارت میں اظہار رائے کی آزادی کے سوال پر عامر خان اور شاہ رخ خان کی مخالفت کی تھی۔ وہ ان دنوں حکومت کے حامی کے طور پر بہت سرگرم نظر آ رہے ہیں۔

ان کے علاوہ بی جی پی کے جنرل سیکریٹری کیلاش وجے وارگیا کا کہنا ہے کہ ’جو بھی بھارت ماتا کی جے نہیں کہہ سکتا اسے بھارت میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘

سوشل میڈیا میں بہت سے افراد اگر اویسی کے حق میں نظر آئے تو بہت سے ان کے خلاف۔

Image caption جاوید اختر نے پارلیمان میں اپنے الودا‏عی خطاب میں بھارت ماتا کی جے کا نعرہ لگایا

معروف گیت کار اور مکالمہ نگار جاوید اختر نے پارلیمان کے ایوان بالا میں اپنی مدت پوری ہونے کے دوران خطاب کرتے ہوئے اسدالدین اویسی کو جہاں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے تین بار ’بھارت ماتا کی جے‘ کا نعرہ لگایا وہیں انھوں نے حمکراں جماعت بی جے پی کے ارکین پارلیمان کو ملک میں فرقہ وارانہ ماحول خراب کرنے والے بیانات سے پرہیز کرنے کے لیے کہا۔

انھوں نے اویسی کا نام لیے بغیر کہا کہ ’وہ کسی بھی قیمت پر بھارت ماتا کی جے نہیں کہیں گے کیونکہ یہ آئین میں نہیں لکھا ہے ۔۔۔ لیکن وہ بتائیں کہ آئین میں شیروانی اور ٹوپی پہننے کی بات کہاں لکھی ہے۔‘

اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’ملک میں پولرائزیشن اور مذہبی تعصب پھیلانے کی کوششوں کو بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔‘

اسی بارے میں