ہانگ کانگ کو خود مختاری دینا ممکن نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ undergrad magazine

چین کے ایک سرکردہ رہنما کا کہنا ہے کہ یہ ناممکن ہے کہ ہانگ کانگ خود مختار ریاست بن جائے۔

یہ بیان ہانگ کانگ کی یونیورسٹی کے ایک میگزین میں شائع ہونے والے اس مضمون میں کے ردعمل میں آیا ہے جس میں اقوام متحدہ سے سنہ 2047 تک ہانگ کانگ کو بطور ایک علیحدہ ریاست تسلیم کرنے کو کہا گيا تھا۔

چینی پارلیمان کے اجلاس کے اختتام کے موقعے پر ایوان میں قانونی کمیٹی کے سربراہ کیاؤ زویانگ بدھ کے روز بعض صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ یہ بات انھوں نے اسی دوران کہی۔

جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا کہ ہانگ کانگ کی آزادی سے متعلق ان کا کیا خیال ہے تو انھوں نے کہا: ’یہ تو نا ممکن ہے‘ اور پھر خود سوال پوچھا ’ہانگ کانگ آزاد کیسے ہو سکتا ہے؟‘

سنہ 1997 میں جب انگلینڈ نے ہانگ کانگ کو چین کے حوالے کیا تھا تو اس کے خصوصی آئین میں اسے کچھ خصوصی اختیارات دیے گئے تھے۔ اس میں آئندہ 50 برسوں کے لیے ’ایک ملک دو نظام‘ کے اصول کی ضمانت دی گئی تھی۔

2014 میں جمہوریت کی حمایت میں مظاہروں کے بعد سے ہانگ میں زیادہ خود مختاری حاصل کرنے کا مطالبہ زور پکڑتا رہا ہے۔

ہانگ کانگ کی آزادی کے لیے نئی آواز ہانگ کانگ کی یونیورسٹی سے آن لائن شائع ہونے والے ایک میگزین میں اٹھائی گئی ہے۔

’ہمارا 2047‘ کے عنوان سے ایک مضمون میں اقوام متحدہ سے ہانگ کو ایک آزاد ریاست، جمہوری حکومت کے قیام اور اور اس کے خود کے آئین کو تسلیم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔

اس میں ہانگ کانگ کی شناخت اور اس کے ورثے کو زیادہ تحفظ فراہم کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

اس مضمون میں ہانگ کانگ کی حکومت پر یہ کہہ کر نکتہ چینی کی گئی ہے کہ وہ چین کی کٹھ پتلی ہے جبکہ اپوزیشن کو مقامی جذبات کا کمزور اور کم تر ترجمان بتا کر اس پر بھی تنقید کی گئی ہے۔

چین نے بارہا اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ’ایک ملک دو نظام‘ کا پابند ہے جس میں ہانگ کانگ کو زیادہ خود مختاری کی ضمانت دی گئی ہے۔

لیکن اس نے مظاہرین کے ان مطالبات کو تسلیم نہیں کیا جس میں شہریوں کو 2017 کے انتخابات کے لیے اپنا رہنما خود منتخب کرنے کی آزادی ہو۔

اسی بارے میں