بھگت سنگھ اپنے زمانے کے کنہیا کمار تھے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بھگت سنگھ سے کنہیا کمار کا موازنہ کرنے کا مسئلہ سوشل میڈیا پر چھایا رہا

کیا دہلی میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے سٹیوڈنٹ لیڈر کنہیا کمار آج کے بھگت سنگھ ہیں؟ یہ سوال سوشل میڈیا پر چھایا ہوا ہے۔

دراصل، اتوار کی رات بھارت کے سابق وزیر ششی تھرور نے جے این یو میں برطانوی حکومت کے دور میں غداری کے قانون کے شکار لوگوں کے نام گناتے ہوئے بھگت سنگھ کو اپنے وقت کے کنہیا کمار سے تشبیہ دی تھی۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ فروری میں افضل گورو کے بارے میں ایک پروگرام منعقد کرنے کے سلسلے میں کنہیا کمار پر ’غداری‘ کا الزام لگایا گیا تھا۔

یونیورسٹی میں طلبہ کے ایک گروپ سے خطاب کرتے وقت ششی تھرور نے کہا، ’برطانوی راج کے دوران غداری کے قانون کے سب سے بڑے شکار جواہر لال نہرو، مہاتما گاندھی، بال گنگا دھر تلک، اینی بیسنٹ وغیرہ تھیں۔‘

جب ایک طالبِ علم نے بھگت سنگھ کا نام لیا تو انھوں نے فورا کہا، ’بھگت سنگھ اپنے وقت کے کنہیا کمار تھے۔‘

لیکن پیر کو اس معاملے نے طول پکڑ لیا اور کانگریس نے ششی تھرور کے اس بیان سے کنارہ کرلیا۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق پارٹی کے ترجمان منیش تیواری نے کہا، ’صرف ایک ہی بھگت سنگھ ہوئے ہیں۔ صرف ایک ہی بھگت سنگھ ہیں۔‘

Image caption ٹوئٹر پر بھگت سنگھ اور کنہیا کمار کے موازنے پر بحث ہوتی رہی

دوسری جانب بی جے پی نے سابق مرکزی وزیر تھرور پر عظیم انقلابی اور مجاہد آزادی کی توہین کا الزام لگایا ہے۔

بی جے پی پارٹی کے رہنما شاہنواز حسین نے کہا: ’ملک کی آزادی کے لیے لڑنے والے بھگت سنگھ ’بھارت ماتا کی جے‘ کہتے ہوئے پھانسی پر چڑھے تھے۔‘

’کنہیا کمار کا بھگت سنگھ سے موازنہ اس عظیم مجاہد آزادی اور دیگر تمام محب وطن کی توہین ہے۔‘

اس کے بعد تھرور نے بھی اپنی صفائی میں کہا ہے کہ ان کا مقصد کنہیا کو بھگت سنگھ کے برابر کھڑا کرنا نہیں تھا۔

پیر کو ٹوئٹر پر یہ معاملہ دیر تک ٹرینڈ کرتا رہا۔ کچھ نے کانگریس پر تنقید کی تو کچھ نے کنہیا کو نشانہ بنایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PIB
Image caption ششی تھرور نے بھی وضاحت پیش کی

زیادہ تر لوگوں نے کہا کہ بھگت سنگھ کا جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے اس طالب علم رہنما سے موازنہ کرنا غلط ہے۔

ایل ایس دشورا نے ٹویٹ کیا، ’کانگریس جے این یو کے ملک مخالف کنہیا کمار سے شہید بھگت سنگھ کا موازنہ کر رہی ہے۔ کانگریس پوری طرح سے بے نقاب ہو گئی۔‘

سنجے ہیگڑے نے لکھا، ’بھگت سنگھ خدا کے منکر تھے۔ وہ کسی خدا کی عبادت نہیں کرتے تھے، وہ تو بھارت ماتا کی بھی پوجا نہیں کرتے تھے۔‘

سینٹ لوسیفر نے لکھا: ’جیل میں بنیاد پرست سکھوں نے بھگت سنگھ پر تنقید کی، تب انھوں نے اپنے آپ کو منکر کہنا شروع کر دیا۔‘

شالنی سنگھ لکھتی ہیں، ’ششی تھرور نے کنہیا کمار سے اپنی محبت کا اظہار کرنے کے لیے ان کا موازنہ بھگت سنگھ سے کر ڈالا۔‘

برمبي مہتا نے ٹویٹ کیا: ’ایک اخبار نے 1929 میں بھگت سنگھ کو پہلی بار کمیونسٹ کہا تھا۔ دراصل، آر ایس ایس 2055 تک کنہیا کمار کی بھی پوجا کرنے لگے گا۔‘

اسی بارے میں