مسلمانوں کے خلاف ہجوم کے تشدد میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ Ravi Prakash
Image caption لیتھار میں ہندو اور مسلمانوں کے درمیان کشید‏گی ہے اور حکم امتناعی جاری ہے

بھارت کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ میں دو مسلمانوں کے قتل کو اقلیت کے خلاف بعض ہندو تنظیموں کی جانب سے پرتشدد جارحانہ رجحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

جھار کھنڈ کے سابق وزیراعلی بابو لال مرانڈی نے جھارکھنڈ کے واقعے کا چند ماہ قبل دہلی کے قریب دادری میں ہونے والے واقعے سے موازنہ کیا ہے۔

جبکہ ایوان بالا میں حزب اختلاف کے رہنما غلام نبی آزاد نے کہا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف ہجوم کے تشدد میں آئے دن اضافہ ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ جھارکھنڈ کے لاتیہار ضلع میں بالوماتھ تھانہ کے جھابر گاؤں میں جانوروں کے دو تاجروں کو مبینہ طور پر قتل کر کے ان کی لاشیں درخت سے لٹکا دی گئی تھیں۔ اس سے پورے علاقے میں کشیدگی ہے۔

اطلاعات کے مطابق مرنے والے تاجر محمد مظلوم اور امتیاز خان کی عمر بالترتیب تقریباً 32 اور 12 سال تھی۔

مظلوم کے بھائی افضل انصاری نے گائے کے تحفظ کی ہندوؤں کی تنظیم ’گوركشا کمیٹی کے لوگوں کو اپنے بھائی کے قتل کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ جبکہ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ باہمی رنجش کا معاملہ ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ ravi prakash
Image caption یہ واقعہ دو دن قبل پیش آیا ہے

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے افضل انصاری نے کہا: ’جن لوگوں نے میرے بھائی کو قتل کیا، وہ گو ركشا کمیٹی کے لوگ تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو جانوروں کی کسی طرح کی خرید و فروخت کے خلاف ہیں اور اسے روکنا چاہتے ہیں۔‘

افضل نے یہ بھی کہا کہ ان کے بھائی دراصل اپنے ہی بیل کو ہزاری باغ کے پاس لگنے والے جانوروں کے میلے میں لے جا رہے تھے۔

انھوں نے کہا: ’یہ جانور کاشتکاری میں استعمال ہونے والے تھے۔ ہم نے پولیس حکام اور دوسرے لوگوں کو بھی جانور دکھایا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ خود دیکھیں کہ ہمارا مقصد کیا تھا۔‘

افضل نے بی بی سی کو بتایا،’میرا بھائی صرف 32 سال کا تھا۔ اس کے چار بچے ہیں۔ ہماری دنیا تاریک ہو چکی ہے۔ ہمیں کچھ نظر نہیں آ رہا ہے، ہم مکمل طور بدحواس ہیں، ہمیں پتہ نہیں چل رہا ہے کہ ہم کیا کریں، کیا نہ کریں۔‘

مظلوم کے ساتھ نوجوان امتیاز خان کو بھی قتل کر دیا گیا ہے۔ بقول افضل ’وہ محض 12 سال کا لڑکا تھا۔ اسے بھی قتل کر دیا گیا۔‘

ریاست کے سابق وزیر اعلی بابو لال مرانڈی نے ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے ملاقات کی ہے اور کہا ہے کہ اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption ایوان بالا میں حزب اختلاف کے رہنما غلام نبی آزاد نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر تشدد کے واقعات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے

جبکہ ریاست کے حالیہ وزیر اعلی رگھوور داس نے کہا: ’پولیس نے کچھ لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ یہ مجرمانہ واقعہ ہے۔ اس کو دوسری نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔‘

دریں اثنا جھابر گاؤں میں حکم امتناعی جاری ہے۔

کانگریس کے رہنما غلام نبی آزاد نے وزیر اعظم نریندر مودی کے نام ایک خط جھارکھنڈ میں دو مسلمانوں کے قتل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ کوئی اکلوتا واقعہ نہیں ہے۔‘

انھوں نے لکھا: ’گذشتہ دنوں مسلمانوں پر حملے کے لیے بہانے تلاشے گئے ہیں، جیسے دادری میں مارمار کر قتل، (دہلی میں واقع) کیرالہ ہاؤس کے باورچی خانے پر چھاپہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے میس پر چھاپہ، راجستھان کی میواڑ یونیورسٹی میں کشمیری طلبہ کو پیٹنا اور پھر پولیس کے حوالے کرنا پھر جھارکھنڈ کا واقعہ۔‘

انھوں نے لکھا کہ ’مرکز میں بی جے پی کی حکومت کے بعد سے دھمکیوں، ہجوم کے تشدد، نگرانی وغیرہ کے واقعات میں شدید اضافہ افسوس ناک ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مرکز میں بی جے پی کے آنے کے بعد سے بھارت میں عدم رواداری پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے

رپورٹس کے مطابق جس بہیمانہ دھنگ سے ان دونوں افراد کا قتل کیا گیا ہے اس سے شدید نفرت کا اظہار ہوتا ہے۔ اس سے قبل دہلی سے ملحق علاقے دادری میں ایک شخص کو گوشت رکھنے کے شبہے میں لوگوں نے مار مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے بعد مدھیہ پردیش میں ایک مسلم جوڑے کو گوشت لے کر سفر کرنے کے لیے زدوکوب کیا گیا۔

بھارت دنیا کا سب سے بڑا بیف برآمد کرنے والا ملک ہے لیکن کئی ریاستوں میں گائے اور اس کی نسل کے دوسرے جانوروں کے ذبیحے پر پابندی ہے۔ گذشتہ ایک سال سے گائے کے نام پر کئی تنازعات سامنے آ چکے ہیں۔ دادری کے بعد منی پور میں ایک مسلمان کو گائے چرانے کے الزام میں مار مار کر ہلاک کردیا گیا۔

اسی بارے میں