’کشمیر کی حکومت محبوبہ مفتی کے لیے کانٹوں کا تاج‘

Image caption محبوبہ مفتی اگر وزیراعلی بنتی ہیں تو وہ ریاست کی پہلی خاتون وزیراعلی ہوں گی لیکن بی جے پی کی حمایت والی حکومت کا سربراہ بن کر گویا انہوں نے کانٹوں کا تاج پہن لیا ہو

اب تو یہ طے ہے کہ بھارت کی ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کی حمایت سے محبوبہ مفتی کشمیر کی پہلی خاتون وزیراعلی ہوں گی۔ یہ فیصلہ قریب دس ہفتوں کی سیاسی غیریقنی کے بعد سری نگر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے اہم اجلاس میں جمعرات کی شام کو ہوا۔

ڈھائی ماہ سے محبوبہ نے یہ فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔ ان کا اصرار تھا کہ ان کے والد مفتی محمد سعید نے جن بنیادوں پر بی جے پی کے ساتھ شراکت اقتدار کا معاہدہ کیا تھا، ان پر عمل درآمد کے لیے انہیں حکومت ہند سے واضح اور دو ٹوک یقین دہانی کرائی جائے۔

کئی ہفتوں کی کوششوں کے بعد 22 مارچ کو محبوبہ مفتی نے نئی دلّی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ مختصر ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد انھوں نے سری نگر میں اراکین اسمبلی اور اراکین پارلیمان کا اجلاس طلب کیا۔ جمعے کو پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی اور بی جے پی کے صدر جموں میں گورنر نریندر ناتھ ووہرا سے الگ الگ ملاقا ت کریں گے۔ اس کے بعد حلف برداری کی تاریخ کا تعین ہوگا۔

لیکن محبوبہ کو وزیراعلی بنتے ہی دو بڑے سوالوں کا سامنا ہوگا۔ ایک یہ کہ جن مطالبات کو منوانے کی شرائط پر وہ حلف برداری میں تاخیر کررہی تھیں، کیا نریندر مودی نے وہ تسلیم کر لیے ہیں۔ ان مطالبات میں کشمیر سے سخت ترین فوجی قوانین کا خاتمہ، پن بجلی منصوبوں پر ریاست کے مالکانہ حقوق کی بحالی، علیحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات اور آبادی والے علاقوں میں فوجی تنصیبات کو ہٹانے اور 2014 میں آئے سیلاب کے متاثرین کے لیے مالی امداد جیسے معاملات کا ذکر تھا۔

Image caption کئی ہفتوں کی کوششوں کے بعد 22 مارچ کو محبوبہ مفتی نے نئی دلّی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ مختصر ملاقات کی

غور طلب ہے کہ نریندر مودی کے ساتھ ملاقات کے بعد محبوبہ نے تفصیلات ظاہر نہیں کیں، لیکن آر ایس ایس کے رہنما اور کشمیر میں حکومت سازی کے اہم ثالثی رام مادھو نے فوراً واضح کردیا کہ اس ملاقات میں حکومت سازی یا اس سے جڑی محبوبہ کی شرائط پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ جہاں تک فوج ہٹانے، امداد تقسیم کرنے وغیرہ جیسے معاملات کا تعلق ہے، تو ڈھائی ماہ کے گورنر راج کے دوران نہ صرف آٹھ سو کروڑ روپے کی امداد سیلاب زدگان میں تقسیم کی گئی، بلکہ کئی مقامات سے فوجی کیمپ ہٹانے کا اعلان بھی ہوا۔

رہا سوال مذاکرات کا، تو بھارت اور پاکستان کے تعلقات کی برف پہلے ہی پگھلتی نظر آرہی ہے۔ بدھ کو نئی دلّی میں پاکستان کے سفیر عبدالباسط کے ساتھ علیحدگی پسندوں نے یوم پاکستان کی تقریب کے حاشیے پر ملاقات بھی کی اور اسی روز کشمیر میں دختران ملت کی خاتون کارکنوں نے جگہ جگہ پاکستانی پرچم بھی لہرائے۔ ان واقعات کو مودی سرکار نے نظر انداز کیا، حالانکہ گزشتہ برس اسی حکومت نے مسٹر باسط اور حریت کانفرنس کے رہنماوں کے درمیان ملاقات کا بہانہ بنا کر خارجہ سیکریڑی سطح کے مذاکرات معطل کردیے تھے، اور پاکستانی پرچم لہرانے پر دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی کو قید کیا گیا تھا۔

کئی حلقے کہتے ہیں کہ عوام دوست اقدامات اور علیحدگی پسندوں کے تئیں حکومت ہند کی اس نرمی سے محبوبہ پر دباو بڑھ گیا اور انھوں نے ایک طرح کا سیاسی سرینڈر کیا۔

سابق وزیراعلی اور اپوزیشن رہنما عمرعبداللہ نے جمعرات کو محبوبہ کے فیصلہ کے فوراً بعد یہ بتایا : ’ڈھائی ماہ تک وہ لوگوں سے کہتی رہیں کہ وہ مرکز سے کچھ رعایت لینے کے بعد ہی کرسی پر بیٹھیں گی۔ انہیں اب عوام کو یہ بتانا ہوگا کہ انہیں ملا کیا؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ PTI. AP
Image caption محبوبہ سے پوچھاجائے گا کہ اگر وہ بنا کسی رعایت کے بی جے پی کے ساتھ حکومت سازی پر آمادہ تھیں تو حلف برداری میں ڈھائی ماہ کی تاخیر کیوں کی

دوسرا سوال جو محبوبہ سے پوچھاجائے گا، وہ یہ ہے کہ اگر وہ بنا کسی رعایت کے بی جے پی کے ساتھ حکومت سازی پر آمادہ تھیں تو حلف برداری میں ڈھائی ماہ تاخیر کیوں کی؟

سیاسیات کے طالب علم جمشید یوسف کہتے ہیں: ’محبوبہ مفتی نے نئی دلّی کے ساتھ مول تول تو خوب کیا، لیکن انہیں ملا کچھ نہیں۔ اگر انھوں نے بنا کسی شرط کے کرسی قبول کرلی ہے تو اس پر یہ شور شرابہ کیوں ہے۔ یہاں کی ہند نواز سیاست تو اقتدار کے ارد گرد ہی گھومتی ہے۔‘

جو بھی ہو، اقتدار میں برقرار رہنا دونوں کی سیاسی مجبوری تھی۔ کشمیر میں چھہ برس بعد انتخابات ہوتے ہیں۔ 2020 کے دسمبر تک ابھی پانچ سال کا عرصہ ہے۔ کشمیر کی سیاست میں یہ ایک طویل مدت ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

واضح رہے کہ بی جے پی بھارتی آئین کی دفعہ 370 کے تحت کشمیر کو حاصل خصوصی پوزیشن کو کالعدم کرنا چاہتی ہے، اور 1947میں پاکستان چلے گئے ہندوؤں کو کشمیر میں دوبارہ آباد کرنے جیسے معاملات پر کافی سنجیدہ ہے۔ بلکہ ان ہی نعروں پر اس پارٹی نے یہاں انتخابات لڑے۔ لیکن جہاں ایک طرف پی ڈی پی خود حکمرانی یا سیلف رُول جیسے حساس نعروں سے احتراز کررہی ہے، وہیں بی جے پی نے بھی اپنے موقف میں بظاہر نرمی لائی ہے۔

اگر انجینئر ہلال کے بقول یہ حکومت بی جے پی کے جارحانہ منصوبوں میں واقعی حائل بھی ہوجاتی ہے، تب بھی اس کھیل میں پی ڈی پی کی شبیہہ بُری طرح متاثر ہوگی، جسکا فائدہ اس کے حریفوں خاص طور پر نیشنل کانفرنس کو ہوسکتا ہے۔ بہرحال ، محبوبہ مفتی نے بی جے پی کی حمایت والی حکومت کا سربراہ بن کر گویا کانٹوں کا تاج پہن لیا ہے۔

اسی بارے میں