’موٹا ہاتھی‘ کہنے پر طلاق درست ہے

Image caption شوہر کو ’موٹا ہاتھی‘ کہنے سے یقیناً ان کی عزت نفس کو نقصان پہنچا ہے: عدالت

بھارتی دارالحکومت دہلی کی ایک عدالت نے فیصلہ سنایا ہے کہ بیوی کی جانب سے اپنے شوہر کو ’موٹا ہاتھی‘ کہنا طلاق کی بنیاد ہو سکتا ہے۔

ایک نجی عدالت کے سنہ 2012 کے ایک فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے دہلی کی ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ شوہر کو ’موٹا ہاتھی‘ کہنا شوہر کو ’ذہنی اذیت‘ دینے کے مترادف ہے۔

اس مقدمے میں مدعی ایک 35 سالہ کاروباری شخص تھے جن کا وزن 220 پاؤنڈ بتایا جاتا ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق شوہر کا کہنا تھا کہ ان کی اہلیہ بار بار ’ان کی توہین کرتی رہی ہیں کہ ان کا وزن زیادہ ہے اور وہ ان کی جنسی خواہشات کو پورا نہیں کر سکتے۔‘

روزنامہ ’انڈیا ٹوڈے‘ کے مطابق دہلی ہائی کورٹ کے جج جسٹس وِپن سانگھی کا کہنا تھا کہ ’قطع نظر اس بات کے کہ اس مقدمے میں اپیل کرنے والی خاتون کے شوہر کا وزن زیادہ تھا، لیکن بیوی کی جانب سے اپنے شوہر کو برا بھلا کہنا اور انھیں کبھی ’ہاتھی، اور کبھی ’موٹا ہاتھی‘ کہنے سے یقیناً شوہر کی عزت نفس کو نقصان پہنچا ہے۔‘

’صاف ظاہر ہے کہ مدعا علیہ ایک حساس شخص ہیں اور اس قسم کی لعن طعن انھیں بری لگتی تھی اور خاتون نے عدالت میں یہ نہیں کہا کہ وہ یہ باتیں مذاق یا پیار میں کرتی تھیں اور ان کے ذہن میں شوہر کے خلاف کوئی بغض نہیں تھا۔‘

خاتون کا موقف تھا کہ ان کے شوہر کے الزامات ’مبہم اور غیر واضح‘ ہیں، لیکن عدالت نے خاتون کے دلائل کو رد کر دیا۔

اسی بارے میں