بھارت میں آن لائن اور ڈیٹنگ ایپس سے شادیوں کا چلن

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عام طور پر بھارت میں کسی دوسری ذات کے فرد میں رومانوی طور پر دلچسپی لینے کا تصور بھی ناممکن سمجھا جاتا ہے

بھارت میں نوجوانوں کی شادیاں روایتی طور پر ان کے بڑے ہی طے کرتے آئے ہیں تاہم آج کے دور میں سمارٹ فونز اور ڈیٹنگ ایپس کی مدد سے کچھ لوگ اپنی زندگی کا یہ فیصلہ خود ہی لینا شروع کردیا ہے۔

سائمن میبن نے ایسے ہی بعض جوڑوں سے بات چیت کی ہے جن کی ملاقات آن لائن ہوئی تھی۔

انھوں نے ایک دوسرے کی طرف کن اکھیوں سے دیکھا اور پھر فوراً اس خوف سے نظریں چُرا لیں کہ کہیں کوئی دیکھ نہ لے۔ اصل زندگی کے اس رومانی لمحے میں درِپردہ کوئی فلمی گانا سنائی نہیں دیتا بلکہ تیزی سے رواں دواں ٹرین کی کھڑ کھڑ سنی جا سکتی تھی۔

یہ 22 سالہ ورشا اور 27 برس کے راہُل تھے۔

ورشا مسکراتے ہوئے بتاتی ہیں ’میں اپنی خالہ کے گھر سے واپس آرہی تھی۔ ان کی دادی وہاں تھیں، اور پھر ان کی دادی اور میں اپنے گھر والوں سے متعلق گفتگو کرنے لگے تھے۔ مجھے نہیں معلوم کیا ہوا تھا لیکن مجھے ان (راہل) میں دلچسپی پیدا ہوگئی تھی۔‘

راہُل گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے بتاتے ہیں ’میری ان سے بات کرنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی تھی۔ ان کی والدہ وہاں موجود تھیں، ان کے بھائی بھی ساتھ تھے۔‘

بھارت میں لوگ اس بات کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے کہ صنفِ مخالف سے تعلق رکھنے والے اجنبی ایک دوسرے سےگفتگو کریں۔

Image caption بھارت میں لوگ اس بات کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے کہ صنفِ مخالف سے تعلق رکھنے والے اجنبی ایک دوسرے سےگفتگو کریں

ورشا کہتی ہیں ’مجھے لگا کہ وہ اچھے آدمی ہیں اور میں ان سے دوستی کرنا چاہتی تھی۔ اس مقصد کے لیے میں نے انھیں سماجی رابطے کی ویب سائیٹ فیس بُک پر تلاش کرنا شروع کردیا۔‘

طویل جستجو کے بعد ان کے درمیان چیٹنگ (آن لائن گفتگو) شروع ہوئی اور ایک دوسرے کے ساتھ تصاویر کا تبادلہ ہوا۔ ایک دوسرے سے فون پر براہ راست بات کرنے کے بجائے چیٹنگ اور پیغام رسانی (میسیجنگ) کے ذریعے بات چیت کرنے کے باعث اس نئے رشتے کو واز میں رکھنا زیادہ آسان تھا۔

ورشا کہتی ہیں ’ہم کسی کے بھی سامنے بات نہیں کرسکتے تھے۔‘ ورشا کے پاس اپنا الگ کمرہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس بات سے خوفزدہ تھیں کہ سمارٹ فون میں جلنے والی روشنی کہیں ان کے گھر والوں کو اس رشتے کے بارے میں ہوشیار نہ کردے۔

تقریباً ایک ماہ تک آن لائن ایک دوسرے سے بات چیت کرنے کے بعد انھوں نے چھپ کے ملنا شروع کردیا۔ مسئلہ محض یہ نہیں تھا کہ ان کے درمیان رومانوی تعلق تھا، جسے آج بھی بھارت میں کئی لوگ انتہائی ممنوع یا حرام سمجھتے ہیں، بلکہ ورشا اور راہل دو مختلف ذاتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

عام طور پر بھارت میں کسی دوسری ذات کے فرد میں رومانوی طور پر دلچسپی لینے کا تصور بھی ناممکن سمجھا جاتا ہے۔

Image caption ورشا کہتی ہیں کہ انہیں لگا کہ وہ اچھے آدمی ہیں اور دوستی کے مقصد سے میں نے انھیں سماجی رابطے کی ویب سائیٹ فیس بُک پر تلاش کرنا شروع کردیا

دوسری جانب بھارت کے شہر بنگلور میں ایک اور رومانوی داستان کا آغاز ہورہا تھا۔ اس بار درپردہ موسیقی ریل گاڑی کی آواز نہیں بلکہ باؤلنگ پِنز ( بڑی گیند پھینک کے گرائی جانے والی پنیں) تھیں۔

گریما کہتی ہیں ’جیسے ہی کمار کھیلنے کےلیے آگے بڑھے ہر شخص رُک کہ انھیں ہی دیکھنے لگا تھا۔‘

گریما اور کمار کی ملاقات ایک آن لائن ڈیٹنگ سروس فلو کے زیر اہتمام باؤلنگ کے کھیل کے دوران ہوئی تھی۔ کمار کے ماہرانہ کھیل سے متاثر ہوکے گریما نے اگلے روز انھیں میسیج کرکے جوس پینے کے لیے مدعو کیا تھا۔

ان کی یہ ملاقات اچھی رہی اور اس کے بعد ان کی آپس میں کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ گریما نے اپنے گھر والوں کو نہ صرف کمار کے بارے میں بتایا بلکہ یہ بھی کہ ان کا تعلق دوسرے مذہب سے ہے۔ کمار ہندو ہیں جبکہ گریما جین مذہب سے تعلق رکھتی ہیں۔

گریما اگلی بار اپنے گھر والوں سے ملنے گئیں تو جلد ہی انھیں احساس ہوگیا کہ کمار کا اور ان کا رشتہ موضوع بحث ہے۔ وہ بتاتی ہیں ’میرے والد شدید غصے میں تھے۔ انھوں نے کہا، آپ کو بالکل اندازہ نہیں ہے۔ وہ گوشت خور ہے اور وہ شراب بھی پیتا ہے۔ آپ اس شخص کے ساتھ نہیں رہ سکیں گی۔‘

اُدھر ہزار میل کے فاصلے پر، دہلی شہر میں ایک اور عہدحاضر کی رومانی داستان پروان چڑھ رہی تھی۔ 30 سالہ نتن ایک فلیٹ میں اپنے والدین کے ساتھ رہائش پزیر تھے۔ ایک دن وہ فیس بُک پرموجود تھے جب ان کی نظر سے ایک اشتہار گزرا۔ یہ ایک بھارتی ڈیٹنگ ویب سائیٹ ’ٹرولی میڈلی‘ کا اشتہار تھا۔

Image caption گریما اور کمار کی ملاقات ایک آن لائن ڈیٹنگ سروس فلو کے زیر اہتمام باؤلنگ کے کھیل کے دوران ہوئی تھی

دہلی کے ہی ایک اور گھر میں شروتی کی نگاہ سے بھی یہی ویب سائیٹ گزری۔

شروتی کہتی ہیں ’میرے خیال میں ایک سے ڈیڑھ ہفتے کے درمیان میرے اور نتن کے درمیان بات چیت شروع ہوگئی تھی۔ ڈیٹنگ ایپ پہ ہم نے ایک دوسرے کو چند پیغامات بھیجے تھے اور اس کے بعد ہم نے فیصلہ کرلیا تھا کہ ہمیں ملنا چاہیے۔ ہماری پہلی ملاقات کے بعد ہی مجھ پہ یہ بات بالکل واضح ہو گئی تھی کہ مجھے ان کی ہی تلاش تھی، اور میں اپنا فیصلہ ان کے ہی حق میں دینے والی تھی۔‘

ایک ہی ملاقات کے بعد یہ جوڑا شادی کے لیے تیار تھا۔ دونوں کے گھر والوں کے درمیان فوراً ہی ملاقات کروائی گئی اور انھیں یہ جان کہ بہت خوشی ہوئی کہ دونوں خاندانوں کا تعلق نہ صرف ایک ہی مذہب سے تھا بلکہ ان کی ذات بھی یکساں تھی۔

تاہم شروتی اور نتن نے اپنے والدین سے یہ بات چھپائی تھی کہ ان کی ملاقات اصل میں کہاں ہوئی تھی۔

شروتی کہتی ہیں ’اگر آپ ڈیٹنگ ایپ کی مدد لے رہے ہیں تو آپ کے والدین اس بات کو تسلیم نہیں کریں گے کے اس کے ذریعے آپ کو ایک اچھا ساتھی مل سکتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ لوگ ان ایپس پر صرف جھوٹے تعلقات بنانا چاہتے ہیں۔‘

Image caption شروتی کہتی ہیں کہ ایک سے ڈیڑھ ہفتے کے درمیان میرے اور نتن کے درمیان بات چیت شروع ہوگئی تھی، ڈیٹنگ ایپ پہ ہم نے ایک دوسرے کو چند پیغامات بھیجے تھے بس

نیتن اور شروتی کے والدین کو حقیقت ان کی دھوم دھام سے ہونے والی منگنی کی تقریب کے بعد معلوم ہوئی تھی، شادی سے محض چند ماہ قبل۔ اس وقت اتنی دیر ہوچکی تھی کہ وہ اس بات پہ اعتراض نہیں کرسکتے تھے۔

دوسری جانب گریما کےلیے سب کچھ اتنا آسان نہیں تھا۔ انھیں اور کمار کو یہ احساس ہوگیا تھا کہ اپنے گھر والوں کے سامنے یہ بات ثابت کرنے کے لیے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ کتنا سنجیدہ ہیں ان کا منگنی کرنا ضروری ہے۔

کمار بتاتے ہیں ’مجھے یہ دیکھنے کےلیے ایک مہم چلانی پڑی تھی کہ (شروتی کے خاندان میں) کسے آمادہ کرنا آسان ہے تاکہ اس فرد کی مدد سے باقی لوگوں کو آمادہ کیا جاسکے۔‘

قائل کرنے کے لیے ایک سال تک شدید ترغیبی مہم چلائی گئی اور خوشامدیں کی گئی تھیں۔ گریما کے والد کو منانا سب سے مشکل تھا تاہم آخر میں انھوں نے بھی ’ہاں‘ کردی تھی۔ کمار کی اپنے سسر سے پہلی ملاقات شادی سے محض ایک دن قبل ہوئی تھی۔

ٹرین کے سفر میں ملنے والی ورشا اور راہول کے لیے اپنے والدین کو منانا سب سے مشکل امر تھا۔ انھیں اپنے والدین کو ایک دوسرے کے بارے میں بتانے کی ہمت ہی نہیں ہوئی کہ وہ ایک دوسری ذات کے شخص کے ساتھ شادی کرنا چاہتے ہیں۔ والدین کو بتانے کے بجائے انھوں نے ہزار میل دور نئی دہلی جانے کو ترجیح دی تھی۔

انھوں نے فیصلہ کیا کہ انھیں شادی کرلینی چاہیے۔ ورشا بتاتی ہیں ’وہ ایک سادہ شادی تھی۔‘ یہ ایک بہت ہی چھوٹی تقریب تھی جس میں صرف دو مہمان شریک تھے۔

راہل نے اپنے والدین کو فون کرکے اپنے دہلی آنے کی وجہ بتائی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ انھیں محبت ہو گئی ہے اور انھوں نے شادی کرلی ہے۔

’ان کا ردعمل انتہائی افسوسناک تھا‘ یہ بتاتے ہوئے راہل کی دھیمی اور نرم آواز میں غم و غصہ سنائی دیتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں ’انھوں نے کہنا شروع کردیا کہ، میں آپ کو جان سے مار دوں گا، میں آپ کے ٹکڑے ٹکڑے کردوں گا۔‘

راہل اور ورشا ان دھمکیوں سے واقعی خوفزدہ ہوگئے تھے۔ بھارت میں کسی دوسری ذات میں شادی کرنے پر غیرت کے نام پر قتل کرنا کوئی انہونی بات نہیں ہے۔

راہل اور ورشا کے لیے یہ سب آسان نہیں ہے، تاہم وہ ایک دوسرے کے ساتھ خوش ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ باقی دو جوڑوں کے گھر والوں کی طرح ان کے گھر والے بھی ان کے رشتے کو تسلیم کرلیں۔ ان کے گھر والے بھی اس بات کو سمجھیں کہ کھلے ذہن والی اس بااختیار نئی نسل کے لیے محبت کیا معنی رکھتی ہے۔

اسی بارے میں