’کلبھوشن کا اعتراف بے بنیاد ہے، قونصلر تک رسائی دیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption انڈین وزراتِ خارجہ کے مطابق ویڈیو میں یہ تاثر مل رہا ہے کہ انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے

انڈیا کی وزراتِ خارجہ نے ایک بیان میں پاکستان میں گرفتار ہونے والے را کے میبنہ جاسوس کلبھوشن یادو کے اعترافی بیان کی ویڈیو کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جھوٹ پر مبنی ہے۔

انڈیا کی وزراتِ خارجہ کے ترجمان وکاس سواروپ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکام کی جانب سے جاری ویڈیو میں انڈین نیوی کے سابق اہلکار موجود ہیں جو ایران میں تجارت کر رہے تھے۔ ان کی پاکستان میں نامعلوم حالات میں گرفتاری عمل میں لائی گئی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈین حکام نے ویڈیو کا بغور جائزہ لیا ہے ’وہ ایک شخص کی انفرادی بیان ہے جس میں کوئی حقیقت نہیں۔‘

بیان کے مطابق ’اس ویڈیو میں یہ تاثر مل رہا ہے کہ انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

انڈین وزراتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایک انڈین شہری کی دوسرے ملک میں حراست پر انھیں قونصلر تک رسائی کا حق بھی نہیں دیا گیا جو کہ ایک عالمی طور پر تسلیم شدہ عمل ہے۔‘

بیان میں کہا گیا کہ ’ہم ایسے حالات میں ان کے تحفظ کے لیے فکر مند ہیں۔‘

انڈین وزراتِ خارجہ کے بیان کے مطابق ’انڈین حکومت واضح انداز میں ان الزامات کی تردید کرتی ہے کہ کوئی فرد اس کی ایما پر پاکستان میں کسی قسم کی تخریبی کارروائی میں ملوث ہے۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈیا کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق انھیں بظاہر ایران سے ایک قانونی تجارت کرنے پر بھی حراساں کیا گیا۔

تاہم بیان میں کہا گیا کہ انڈیا اس معاملے کی مزید تحقیق کرے گا کیونکہ ان کی (بھوشن کی) پاکستان میں موجودگی سے کئی سوال پیدا ہوتے ہیں جن میں ان کا اغوا بھی شامل ہے۔

انڈین وزارتِ خارجہ کے مطابق معاملہ تبھی واضح ہوگا جب مبینہ جاسوس تک قونصلر کو رسائی فراہم کی جائے گی۔

’ہم پاکستان سے اپنی درخواست پر فوری ردِ عمل کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

اسی بارے میں