’مستقبل میزائلوں میں ہے صرف مذاکرات میں نہیں‘

Image caption آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ اس وقت مذاکرات کے ساتھ ساتھ ہتھیار بھی بہت ضروری ہیں

ایران کے سپریم رہنما آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ جو افراد یہ کہتے ہیں کہ ملک کا مستقبل میزائل بنانے کے بجائے مذاکرات میں ہے وہ غلطی پر ہیں۔

بدھ کو ملک کے رہبرِ اعلیٰ نے اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ وہ افراد جو مذاکرات کو مستقبل قرار دے کر اُن کے بارے میں دلائل دے رہے ہیں۔ یا تو انھیں معلوم نہیں ہے یا پھر وہ غدار ہیں۔

ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائل کے نئے تجربات

انھوں نے ملک کو لاحق بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے قومی دفاع کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ایران کے رہبرِ اعلیٰ کا یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب کچھ دن قبل ایران کے سابق صدر اکبر ہاشم رفسجانی نے کہا تھا ملک کا مستقبل مذاکرات ہیں میزائل نہیں۔

ایران کے اعتدال پسند سابق صدر ہاشم رفسجانی نے گذشتہ ہفتے ٹویٹ کی تھی کہ ’مستقبل مذاکرات میں ہے میزائلوں میں نہیں۔‘

آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ اس وقت مذاکرات کے ساتھ ساتھ ہتھیار بھی بہت ضروری ہیں۔

ایران کے سپریم لیڈر نے گذشتہ سال ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے کی حمایت کی تھی لیکن اُس کے بعد انھوں نے امریکہ اور اُس کے اتحادی ممالک سے اقتصادی اور فوجی تعاون بڑھانے سے منع کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر اسلامی جمہوریہ کسی دفاعی طاقت کے بغیر مذاکرات کرے تو کسی کمزور ملک سے بھی اُسے خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں ایران کے پاسدارنِ انقلاب نے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ ایران کی غیر جوہری طاقت کا مظاہرہ ہے۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ ایران کے بیلیسٹک میزائل کے حالیہ تجربے نے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان تجربات پر عالمی دنیا کا ردعمل ظاہر کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں اس کا فیصلہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں کیا جائے گا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکہ اور یورپی ممالک نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ ایران کو غیر جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جائے۔

اسی بارے میں