کولکتہ میں زیر تعمیر پل منہدم، ہلاکتیں 22 ہوگئیں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہ حادثہ بڑا بازار نامی جس علاقے میں پیش آیا ہے وہ شہر کا بہت گنجان آباد علاقہ ہے اس لیے متاثرین کی تعداد زیادہ ہونے کا خدشہ ہے

انڈین ریاست مغربی بنگال کے شہر کولکتہ کے مشرقی علاقے میں گریش پارک کے پاس ایک زیر تعمیر پل گرنے کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

کولکتہ کے ایڈیشنل پولیس کمشنر سوپریتم سرکار نے مرنے والوں کی تعداد کی تصدیق کی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے حکام کے حوالے سے وہاں تقریبا 150 ا فراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

انڈین ٹیلی ویژن چینلوں پر جائے وقوعہ پر ہونے والی امدادی کاررروائیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔

شہر کے بڑا بازار نامی علاقے جہاں یہ حادثہ پیش آیا ہے وہ بہت گنجان آباد علاقہ ہے اس لیے متاثرین کی تعداد زیادہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ پر عینی شاہدین کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ پہلے ایک زوردار دھماکہ ہوا پھر پل گرنے کی شدید آواز سنائی دی۔

اے این آئی کے مطابق امدادی ٹیم موقعے پر پہنچ گئی ہے اور پل کے نیچے پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کا کام تیزی سے جاری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مقامی افراد بھی امدادی کارروائیوں میں شریک ہیں

وزیر اعظم نریندر مودی نے حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ہے، انھوں نے کہا ہے کہ ان کی ہمدریدیاں حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں کے ساتھ ہیں۔

مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بینرجی اپنا انتخابی دورہ منسوخ کر کے جائے حادثہ پر پہنچیں۔

ممتا بینرجی نے کہا ہے کہ حادثے کے لیے ذمہ دار لوگوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ فی الحال انتظامیہ کی ترجیح ملبے میں پھنسے لوگوں کو بچانا ہے۔

ممتا بینرجی نے حادثے کے لیے ریاست کی سابق بائیں بازو حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ بائیں بازو کی حکومت نے 2009 میں یہ ٹینڈر پاس کیا تھا۔