’پاک افغان غیر اعلانیہ جنگ کو ختم کرنا ہو گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’افغانستان علاقائی اور عالمی جنگ کے لیے پلیٹ فارم بن گیا ہے‘

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ پاکستان سے غیر اعلانیہ جنگ جاری ہے جسے ختم کرنا ہو گا۔

بی بی سی کی یلدا حکیم کو دیے گئے ایک انٹرویو میں افغان صدر نے کہا ہے کہ وہ پاکستان سے بات چیت کر رہے ہیں اور ہم نے مسائل کی شناخت کر دی ہے۔

* ’کچھ قوتیں نہیں چاہتیں کہ امن عمل کا منطقی انجام ہو‘

اس سوال پر کیا پاکستان ڈبل گیم کھیل رہا ہے، صدر اشرف غنی نے کہا کہ ’گذشتہ برس کیے گئے پاکستان کے دورے کے وقت سے میں کہہ رہا ہوں کہ ہمارے درمیان ایک غیر اعلانیہ جنگ جاری ہے، ایک غیر اعلانیہ عداوت ہے اور ہمیں اس کو ختم کرنا ہو گا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’چار رکنی مذاکراتی عمل کے تحت ہم نے تحریری معاہدوں تک تو کافی پیش رفت کی ہے، لیکن اب دیکھنا ہے یہ کہ ان معاہدوں کی پاسداری ہوتی ہے یا پھر جیسا کہ آپ کہہ رہی ہیں، ایک ڈبل گیم کھیلی جا رہی ہے۔‘

افغانستان کے حالت جنگ میں ہونے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’یہ ملک علاقائی اور عالمی جنگ کے لیے پلیٹ فارم بن گیا ہے۔ ہم حالتِ جنگ میں ہیں تاہم یہ خانہ جنگی نہیں ہے، افغانوں کے مابین جنگ علاقائی اور عالمی جنگ کا بہت ہی چھوٹا سا حصہ ہے۔‘

افغانستان میں القاعدہ اور خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم کے بارے میں بات کرتے ہوئے افغان صدر نے کہا کہ ’القاعدہ بہت حد تک مخفی ہو گئی ہے لیکن اب بھی پوری طرح قائم ہے۔ دولت ِ اسلامیہ خبروں کی شہ سرخیاں سمیٹ رہی ہے لیکن ہمیں القاعدہ پر بھی توجہ مرکوز کرنا ہو گی۔ وگرنہ خدا نخواستہ ہمیں ایک اور حیرت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

اسی بارے میں