جب کراچی میں امریکی جہاز اغوا ہوا

Image caption پین اے ایم 73 فلائٹ میں مسافروں کے علاوہ عملے کے 14 افراد سوار تھے

آج سے تقریباً 30 برس قبل کراچی ایئر پورٹ پر امریکی ہوائی کمپنی پین اے ایم کی جس پرواز کو ہائی جیک کیا گیا تھا، اس کے کیبن کے عملے نے پہلی بار میڈیا سے بات چیت کی ہے۔

جہاز میں سوار عملے کی ایک رکن نوپر ابرول نے بی بی سی کو بتایا: ’میرا فوری خیال تو یہ تھا کہ ونگ ایگزٹ کھول کر جتنے بھی ممکن ہوں اتنے مسافروں کو باہر نکال دوں لیکن پھر مجھے لگا اس سے باقی مسافر کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ ‘

یہ بات سنہ 1986 کی ہے جب کراچی ایئر پورٹ پر بعض فلسطینی شدت پسندوں نے جہاز پر قبضہ کر لیا تھا۔ 16 گھنٹے تک یہ فلائٹ سکیورٹی کے حصار میں رہی اور پھر 22 افراد کی ہلاکت اور تقریباً 150 کے زخمی ہونے کے بعد اس پر قابو پایا جا سکا۔

ابھی تک اس واقعے سے متعلق خاموشی تھی لیکن حال ہی میں اس فلائٹ کے عملے کی ایک رکن نیرجا بھنوت پر ایک فلم بنی جس کے بعد اس پر بات چیت شروع ہو گئی اور کیبن کے عملے نے بھی اس سے متعلق اپنے تجربات بیان کیے ہیں۔

نوپر کہتی ہیں کہ ’اتنے برسوں بعد بھی ہم میں سے کئی ہیں جنھیں اس واقعے کی یادیں ستاتی ہے اور ہم آج بھی اس دن پیش آنے والے واقعات کو یاد کرتے ہیں کہ کب کیا کیا ہوا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption حال ہی میں اس فلائٹ کے عملے کی ایک رکن نیرجا بھنوت پر ایک فلم بنی جس کے بعد اس پر بات چیت شروع ہوئی ہے اور کیبن کے عملے نے بھی اس سے متعلق اپنے تجربات بیان کیے ہیں

پانچ ستمبر کو پین اے ایم 73 فلائٹ ممبئی سے نیو یارک کے لیے جا رہی تھی جو کراچی میں تھوڑے وقفے کے لیے رکی تھی جہاں سے اسے فرینکفرٹ کے لیے روانہ ہونا تھا۔ اس میں مسافروں کے علاوہ 14 عملے کے افراد سوار تھے جس میں سے 12 فلائٹ کی پرواز کی تیاری میں مصروف تھے۔

صبح چھ بجے چار بندوق بردار ایک گاڑی میں اس طرح سوار ہو کر آئے جیسے وہ ایئر پورٹ کی سکیورٹی کا عملہ ہو۔ یہ لوگ ہوا میں فائرنگ کرتے ہوئے جہاز میں داخل ہو گئے۔

نوپر نے انھیں اپنے ساتھیوں کے پیروں کے پاس فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جو جہاز کے دروازے بند کرنے کے لیے چلّا رہے تھے۔

فلائٹ کی ایک میزبان شیرینی پون نے اسی وقت ہوشیاری سے کاک پٹ کو خالی کرانے کے لیے ایمرجنسی بٹن دبا دیا اور دوبارہ ایسا کرنے پر پائلٹ نے ان کی کال لے لی اور پائلٹ چپکے سے کاک پٹ سے نکل گئے۔

ایک دوسری میزبان سن شائن ویزوالا نے دیکھا کہ ایک ہائی جیکر نے ان کی ساتھی نرجا بھنوت کے سر پر بندوق تان رکھی ہے۔

ایک دوسرے ہائی جیکر نے سن شائن کو کیپٹن کے پاس چلنے کو کہا۔

سن شائن کہتی ہیں کہ انھیں پتہ چل گيا تھا کہ کاک پٹ کو خالی کرنے کا اشارہ کیا جا چکا ہے لیکن ’میں نے دانستہ طور پر اس بات کو نظر انداز کیا اور تھوڑی تاخیر بھی کی تاکہ اگر پائلٹ نہ نکلے ہوں تو اب بھی انھیں باہر جانے کا وقت مل جائے۔ ہائی جیکر کو جہاز کے بارے میں کچھ زیادہ معلومات نہیں تھیں تو اس نے اس بات کا نوٹس بھی نہیں لیا۔‘

Image caption کراچی ایئر پورٹ پر پین ایم فلائٹ کے آپریشن کے ڈائریکٹر وراف ڈوگرا نے بندوق برداروں سے بات چیت شروع کی اور انھیں یقین دلاتے رہے کہ پائلٹ کا انتظام کیا جا رہا ہے

وہ کہتی ہیں: ’بہت سے لوگوں نے اس بات پر نکتہ چینی کی کہ پائلٹ باقی عملے کو چھوڑ کر کیسے باہر نکل گئے، لیکن مجھے جب پتہ چلا کہ پائلٹ جہاز چھوڑ کر جا چکے ہیں تو مجھے بڑا سکون ہوا کیونکہ ہم فضا میں اڑنے کے بجائے اس صورت میں زمین پر زیادہ محفوظ تھے۔ اور اس لیے بھی کہ کم سے کم تینوں پائلٹوں کی جان تو بچ گئی۔ ‘

عملے کی ایک اور رکن دلیپ بیڈیچندانی بھی اسی موقف کی حامی ہیں۔ وہ کہتی ہیں: ’پائلٹ کا جہاز سے باہر نکل جانے کا مطلب یہ تھا کہ اب ہم شدت پسندوں کے رحم و کرم پر نہیں رہیں گے جو کہیں بھی جہاز لے جانے کی ہدایت کرتے یا پھر دوران پرواز اسے اڑا دیتے۔ ‘

بندوق براداروں کا منصوبہ یہ تھا کہ جہاز کو قبرص یا پھر اسرائیل لے جایا جائے، اسی لیے وہ پائلٹ بھیجنے کے مطالبے پر بضد تھے۔

ادھر کراچی ایئر پورٹ پر پین ایم فلائٹ کے آپریشن کے ڈائریکٹر وراف ڈوگرا نے بندوق برداروں سے بات چیت شروع کی اور انھیں یقین دلاتے رہے کہ پائلٹ کا انتظام کیا جا رہا ہے۔

اسی دوران 29 سالہ امریکی مسافر راجیش کمار کو ان کی سیٹ سے گھسیٹ کر کھلے والے دروازے پر لا کر انھیں جھکنے کو کہا گیا اور پھر جب ایک گھنٹہ ہونے کے باوجود بھی کوئی پائلٹ نہیں آیا تو ان کے سر میں گولی مار دی گئی اور انھیں جہاز کے باہر پھینک دیا گیا۔

سن شائن کہتی ہیں کہ بس اسی سے سب کچھ بدل گیا اور ایسا لگا کہ ہائی جیکر بے رحم قاتل ہیں۔

ایک گھنٹہ اور گزرنے کے بعد ہائی جیکروں نے فلائٹ میں سوار امریکی شہریوں کی شناخت کرنی شروع کی۔ لیکن مادھوی بہوگنا اور ایک دوسری ایئر ہوسٹس نے چپکے چپکے مسافروں کے پاسپورٹ جمع کرنے شروع کر دیے تھے تاکہ مسافروں کی شناخت کا پتہ نہ چل سکے اور امریکیوں کے پاسپورٹ لے کر ان لوگوں نے کہیں سیٹ کے نیچے تو کہیں اور ادھر ادھر چھپا دیے تھے۔

اس جہاز میں سوار ایک امریکی مسافر مائیک تھیکسٹن نے اس واقعے پر ایک کتاب ’واٹ ہیپن ٹو دی ہیپّی مین ‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی جس میں انھوں نے فلائٹ کی ایئر ہوسٹسوں کی کارکردگی کی تعریف کی ہے۔

انھوں نے لکھا ہے: ’مجھے لگتا ہے اس دن نے یہ ثابت کر دیا کہ اس فلائٹ کا عملہ اس صنعت کے بہترین عملوں میں سے ایک تھا۔‘

جب ہائی جیکروں کو کوئی امریکی شہری نہیں ملا تو انھوں نے ایک برطانوی کو پکڑ لیا۔

Image caption افراتفری میں عملے کی ایک رکن نیرجا کو گولی لگی اور انھیں ایئر پورٹ سے ایمبولنس پر کراچی کے ہسپتال لے جایا گیا

سن شائن کہتی ہیں کہ ہائی جیکروں کے سرغنہ زید حسن عبدالطیف انھیں کئی بار کاک پٹ لے کر گئے تاکہ شیشے سے دیکھ سکیں کہ باہر کیا ہو رہا ہے۔ اس دوران وہ کئی بار اپنے ہتھیار رکھ دیتے تھے ایک بار سن شائن کو لگا کہ وہ ایمرجنسی کے لیے رکھی کلہاڑی اٹھا لیں لیکن تبھی سفرانی کی ان پر نظر پڑ گئی اور ان کے سر پر بندوق رکھتے ہوئے کہا: ’ایسا سوچنے کی بھی ہمت مت کرنا۔‘

بالآخر جب کئی گھنٹوں کے بعد بھی پائلٹ نہیں آئے تو ہائی جیکروں نے ہر 15 منٹ میں ایک مسافر کو مارنے کی دھمکی دی۔

اس موقع پر نوپر نے مسافروں کو اطمنان دلایا اور انھیں پانی تقسیم کیا گیا۔

ابھی تک تو اندر اے سی بھی چل رہا تھا اور روشنی بھی تھی لیکن اب شام ہوتے ہوتے جہاز میں روشنی کی کمی ہونے لگی اور اے سی بھی کمزور پڑنے لگا۔

عملے کے رکن میہرجی نے سفرانی کو بتایا کہ اب ایمرجنسی لائٹ 15 منٹ تک چل سکتی ہے اس کے بعد جہاز تاریکی میں ڈوب جائےگا۔

شیرینی کہتی ہیں کہ انھیں معلوم تھا کہ اب وقت بہت تیزی سے نکلتا جا رہا ہے۔ جب لائٹ گئی تو عملے کے سبھی رکن جہاز کے مرکز میں جمع تھے۔

سن شائن کہتی ہیں اب بندوق برداروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جا رہا تھا اور پھر انھوں نے بھیڑ پر ہی اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ اس کے بعدتو بس چیخ پکار ہی تھی۔ اس اندھیرے اور ہنگامہ آرائی میں کم سے کم تین دروازے بھی کھول لیے گئے اور لوگوں کو نکانے کا کام شروع ہوا۔

اس افراتفری میں عملے کی ایک رکن نیرجا کو گولی لگی اور انھیں ایئر پورٹ سے ایمبولنس پر کراچی کے ہسپتال لے جایا گیا۔

ان کے ساتھی کہتے ہیں کہ نیرجا ہوش میں تھیں، ان کے کولھے پر گولی لگی تھی اور اگر ہسپتال میں سہولیات اچھی ہوتی تو انھیں بچایا جا سکتا تھا لیکن ہسپتال بہت دور تھا اور ایمبولنس میں سٹریچر تک نہیں تھا۔

اسی بارے میں