انڈیا اور سعودی عرب میں قربت کی وجہ

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption بھارتیوں کی اکثریت سعودی عرب کو پاکستان کے لیے نجات دہندہ اور ایک بنیاد پرست ملک تصور کرتی ہے

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی تین ممالک کے دورے کے آخری مرحلے میں ہفتہ کو واشنگٹن سے سعودی عرب پہنچ رہے ہیں۔ جہاں وہ دو روز قیام کریں گے۔

بھارتی وزیراعظم کے دورے سے اس بات کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ انڈیا سعودی عرب سے تعلقات کو کتنی اہمیت دے رہا ہے۔

عام افراد انڈیا اور سعودی عرب کے تعلقات کو تیل اور مزدوروں کی کمائی سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے ہیں۔ اکثریت کے خیال میں سعودی عرب پاکستان کے لیے نجات دہندہ اور ایک بنیاد پرست ملک ہے۔

لیکن اربوں کھربوں کے تیل کے کاروبار اور سرمایہ کاری کی وجہ سے انڈیا اور سعودی عرب کے درمیان سٹریٹجک تعلقات بڑھ رہے ہیں۔

سنہ 2008 میں ممبئی میں ہونے والے حملوں کے بعد دونوں ممالک نے یو پی اے -2 کے دوران سیکورٹی تعاون شروع کرنے پر غور کیا تھا، جس کے تحت انڈیا کو خلیجی ممالک سے خفیہ اطلاعات مل سکتی تھی۔

وزیراعظم مودی سکیورٹی پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں اور متحدہ عرب امارات کے گذشتہ دورے کے دوران اُن کے مشترکہ بیان کے اہم نکات بھی یہی تھے۔

  • انڈیا مقامی بنیاد پرستوں کو خلیجی ممالک سے ملنے والی مالی معاونت یا دیگر تعاون روکنا چاہتا ہے۔
  • انڈیا جنوبی ایشیا میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ارادوں کو ناکام کرنا چاہتا ہے۔

خلیجی ممالک سے انتہا پسندی کو مالی مدد کا مسئلہ طویل عرصے سے چل رہا ہے، لیکن حساسیت کی وجہ سے اس کو کم توجہ دی گئی ہے۔ موجودہ حکومت کے تحت بنائے جانے والے انڈین سیکورٹی نظام میں دہشت گردی کی فنڈنگ کوروکنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ انتہا پسندی میں معاونت کرنے کے کی وجہ سے گذشتہ چند سال میں سعودی عرب، یو اے ای اور کویت نے کئی مشتبہ افراد انڈیا کے حوالے کیے ہیں۔

سنہ 2010 میں انڈیا کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ ریاض گئے تھے۔ جہاں دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ جس کے بعد اس وقت سعودی وزیر دفاع اور موجودہ بادشاہ شاہ سلمان سنہ 2014 میں انڈیا آئے اور دفاعی تعاون پر مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کیے گئے۔

اس سے پہلے سنہ 2012 میں ایک قابلِ ذکر تبدیلی اُس وقت آئی، جب سعودی عرب نے ممبئی حملوں میں ملوث ذبیح الدین انصاری (ابو جدال) کو انڈیا کے حوالے کیا۔

اس سے پہلے تک پاکستان انڈیا کے ساتھ سعودی عرب کے سٹریٹجک معاملات میں اہم ہوتا تھا لیکن انصاری کے پاس پاکستانی پاسپورٹ ہونے کے باوجود انڈیا نے اُسے دہلی بلوایا۔

اس سے انڈیا اور سعودی عرب کے درمیان سیکورٹی تعاون میں تبدیلی کے اشارے ملے۔

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے سعودی عرب سمیت دنیا بھر میں حملوں نے سیکورٹی ایجنسیوں کو چوکس و چوکنا کر دیا ہے۔

اسلامی شدت پسند تنظیموں کے برصغیر میں قدم جمانے کا اندازہ اُس وقت ہوا جب ستمبر، سنہ 2014 میں القاعدہ برصغیر (اے كيو آئی ایس) میں لانچ ہوا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عودی عرب نے ممبئی حملوں میں ملوث ضبیح الدین انصاری (ابو جدال) کو انڈیا کے حوالے کیا تھا۔

بنگلہ دیش میں ترقی پسند اور سیکولر مصنفین پر حملے کی ذمہ داری بھی دولتِ اسلامیہ نے قبول کی ہے۔ انڈین ایجنسیوں نے بھی کئی نوجوانوں کو پکڑا ہے جن کی انٹرنیٹ کے ذریعے برین واشنگ ہوئی اور جو جہاد میں شامل ہونے جا رہے تھے۔

ان وجوہات کی بنا پر انڈیا سعودی عرب سے خفیہ اطلاعات تک رسائی حاصل کرنے اور سیکورٹی تعاون بڑھانے پر مجبور ہوا ہے۔ خاص کر سائبر سیکورٹی کے میدان میں۔

انڈیا کے پاس بنیاد پرستی پھیلانے والی آن لائن پروموشنل مواد کا پتہ لگانے کی ٹیکنالوجی اور مہارت موجود ہے لیکن اگر یہ انڈیا سے باہر موجود ہیں تو اعلی سطحی سیکورٹی اور خفیہ معلومات کا اشتراک کیے بغیر اس کی جانچ ممکن نہیں ہوتی۔

سعودی حکومت کو انتہا پسندی سے مقابلے اور بنیاد پرستی سے نمٹنے کا کچھ تجربہ ہے اور اس کے پاس تعاون کرنے کی وجوہات بھی ہیں۔ دراصل سعودی عرب کو یہ لگتا ہے کہ ساحلی علاقے میں سلامتی اور استحکام قائم کرنے میں بھارت کا کردار ہو سکتا ہے۔

انڈیا کا سعودی عرب سے سیکورٹی تعاون بڑھانے میں دلچسپی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب میں انڈیا کا نیا سفیر کوئی سابق سفارت کار نہیں بلکہ ایک پولیس اہلکار ہے۔

اسی بارے میں