اس میں پیسہ نہیں اطمینان قلب تو ہے؟

Image caption میریشیٹی کمار بچپن میں اپنے گھر سے بھاگ گئے تھے

بھارت کے جنوبی شہر بنگلور کے میریشیٹی کمار کینسر کے مریضوں کے لیے قدرتی بالوں کے وگز بناتے ہیں اور اس طرح وہ انھیں ایک باوقار زندگی گزارنے میں معاونت کرتے ہیں۔

بی بی سی کی شلپا کنن نے مسٹر کمار سے بات کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’کوئی بھی کام بڑا یا چھوٹا نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگوں کا یہ خیال ہو سکتا ہے کہ میں بے کار کے کام میں لگا ہوں لیکن مجھے اپنی منزل مل گئی ہے۔ اور مجھے وگز بنانا ہے۔

انھوں نے مزید کہا: ’میری جانب سے ان لوگوں کی خدمت میں یہ حقیر سا تحفہ ہے کہ میں ان میں امید اور ذرا سا وقار پیدا کروں جو خطرناک بیماری سے دو چار ہیں۔

کسان خاندان میں پیدا ہونے والے کمار کم عمری میں گھر سے بھاگ گئے اور فلم بنانے والوں کے ساتھ کام کرنے لگے۔ انھوں نے کنّڑ فلموں کے سٹوڈیوز میں تعاون فراہم کیا۔

وہ دیر تک تربیت لیتے رہے جس دوران انھوں نے قدرتی بالوں کی وگز بنانا سیکھے۔ یہ ایک صبر آزما کام ہے جس میں ایک ایک بال کو پرونا ہوتا ہے۔

Image caption انھوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ کینسر کے مریضوں کے لیے وگز تیار کرنا شروع کیا

وہ کہتے ہیں کہ کینسر اور اس کے علاج کے لیے کی جانے والی کیموتھراپی کے بارے میں انھیں اس وقت تک کچھ بھی معلوم نہیں تھا جس کے نتیجے میں مریض کے بال جاتے رہتے ہیں جب تک کہ وہ ایک خاتون سے نہیں ملے تھے جو اپنے بال جاتے رہنے کی وجہ سے دلبرداشتہ تھیں۔

مسٹر کمار نے بتایا کہ ’جب میں نے ان کے سر پر وگ پہنائی اور اس مریضہ کے چہرے پر جو تاثر ابھرا اس نے میری زندگی بدل کر رکھ دی۔

اس کے بعد انھوں نے ٹی وی اور فلم سٹار کے وگز بنانے کی بجائے صرف کینسر کے مریضوں کے لیے وگز بنانے کا فیصلہ کیا۔

Image caption ان کی اہلیہ للتا اس کام میں ان کا تعاون کر تی ہیں

وہ تروپتی میں ہندوؤں کے مندر سے قدرتی بال خریدتے ہیں کیونکہ وہاں زائرین بال منڈوانا کار ثواب سمجھتے ہیں۔

ان کے کام میں انھیں ان کی اہلیہ للتا میریشیٹی سے مدد ملتی ہے جو بالوں کو ڈیٹرجنٹ میں ابال اور دھو کر دھوپ میں سکھاتی ہیں اس کے بعد وہ پانچ بالوں کا ایک گچھہ بناتی ہیں اور انھیں ایک ساتھ پرو دیتی ہیں۔

دونوں نے ایک چھوٹی سی دکان سے کام شروع کیا اور ابھی تک انھوں نے کینسر کے مریضوں کے لیے 20 ہزار سے زیادہ وگز بنائے ہیں۔

Image caption ابھی تک انھوں نے 20 ہزار وگز بنائے ہیں

انھوں نے اپنے وگز کی قیمت کم رکھی ہے کیونکہ ان کے گاہک عام طور پر غریب ہیں۔ ان کی دکان کا بنا ہوا ایک وگ سات ہزار روپے یعنی تقریبا 105 ڈالر سے 25 ہزار ورپے یعنی پونے چار سو ڈالر کے درمیان آتا ہے۔ اور یہ اس بات پر منحصر کرتا ہے کہ اس میں کتنے لمبے بال لگ رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’اس سے بہت آمدنی نہیں ہوتی لیکن اس میں جو مجھے اطمینان قلب ملتا ہے وہ میرے لیے بہت ہے۔

اسی بارے میں