نظریں کابل کی دیواروں پر

تصویر کے کاپی رائٹ ArtLords

کئی سالوں کی جنگ کے بعد افغانستان میں فنکاروں اور سماجی کارکنوں پر مشتمل ایک گروہ اپنے آپ کو تصاویر بنانے والے برش سے لیس کر کے کابل واپس حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف عمل ہے۔

کابل شہر میں سکیورٹی کی صورتحال بہت خراب ہے جہاں اہم عمارتوں کے اطراف میں کئی دفاعی یا حفاظتی دیواریں تعمیر کی گئی ہیں، اور یہ دیواریں ’آرٹ لارڈز‘ نامی گروہ کے لیے کینوس کا کام انجام دے رہی ہیں۔

گروہ کی جانب سے شہر کی دیواروں پر آنکھوں کی سلسلہ وار تصاویر بنائی گئی ہیں، جن میں سے زیادہ تر ’میں تمہیں دیکھ رہا ہوں‘ کے نعرے کے ساتھ تخلیق کی گئی ہیں اور اِس کو کرپٹ حکام کے لیے تنبیہ کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ArtLords

دسمبر کے مہینے میں ایسی ہی آنکھوں والی ایک تصویر نیشنل ڈائریکٹریٹ آف سکیورٹی (این ڈی ایس) کے دفتر کی دیوار پر بھی بنائی گئی تھی، لیکن کچھ دنوں بعد ہی یہ تصویر پراسرار طریقے سے غائب ہوگئی۔

عوام کے بھرپور اصرار کے بعد این ڈی ایس حکام نے’آرٹ لارڈز‘ کے فنکاروں کو دوسری دیوار پر ایسی ہی تصویر بنانے کی پیشکش کی تھی، جس کو آرٹ لارڈز نے مسترد کر دیا تھا۔

آرٹ لارڈز کے بانی اُمید شریفی کا کہنا تھا کہ ’اب وہی آنکھیں اور نعرے اُسی دیوار پر بنائے گئے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ ArtLords

اُمید کہتے ہیں کہ وہ سیاستدانوں کے دفاع میں سوراخ کرنے کے لیے تصاویر بنانا چاہتے ہیں۔

’سیاستدان اِن دیواروں کو حفاظت کے لیے استعمال کرتے ہیں اور ہم یہ سب گِرانا چاہتے ہیں۔‘

کابل یونیورسٹی میں عمرانیات کے اُستاد بارالائی فیترات کا کہنا ہے کہ سماجی تبدیلی لانے کے لیے یہ تصاویر’طاقتور ہتھیار‘ ہیں۔

خاتون پولیس افسر فریبا حامد کی تصویر کابل کے نویں پولیس ڈسٹرکٹ کی حفاظتی دیوار پر بنائی گئی ہے، جہاں وہ اپنے فرائض سر انجام دیتی ہیں۔ اُن کی تصاویر مارچ میں منائے جانے والے عالمی یوم خواتین پر بھی آویزاں کی گئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ArtLords

اپنے کردار کے حوالے سے خاتون اہلکار کا کہنا تھا کہ ’ہم نے بہت زیادہ مزاحمت کا سامنا کیا ہے۔‘

یہ تصویر کابل میں اُس علاقے کے قریب بنائی گئی ہے، جہاں فرخندہ نامی خاتون کو ایک سال قبل مردوں کے ہجوم نے بے دردی سے قتل کردیا تھا۔ فرخندہ پر مبینہ طور پر قرآن جلانے کا غلط الزام لگایا گیا تھا۔

اِس تصویر کے نیچے نعرہ درج تھا کہ ’ بہادر آدمی خواتین کی حمایت کرتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ ArtLords

تمام تصویریں سیاسی نہیں ہیں، یہ تصویر جنگ کا شکار ملک سے محبت کے قافلے کی عکاس ہے۔

آرٹ لارڈز نامی اِس گروہ نے افغانستان سے باہر بھی اپنے فن کو پیش کیا ہے۔

اُمید شریفی کا کہنا ہے کہ یہ تصویر، جس کی دسمبر کے مہینے میں برلن میں نمائش کی گئی تھی، ’ہمارے اور جرمن فنکاروں کی مشترکہ پیشکش‘ ہے۔ یہ افغانستان میں اندرون ملک بے گھر افراد (آئی ڈی پی) کے کیمپ میں کھینچی گئی تصویر کی بنیاد پر تخلیق کی گئی ہے۔

فوٹوگرافر ردا اکبر کم عمری میں ہونے والی شادیوں پر دستاویزی فلم بنانے میں مصروف تھی، جب اُنھوں نے نوجوان ماں اور اُن کی صاحبزادی کی یہ تصویر لی۔ یہ تصویر 19 سالہ نغمہ کی ہے، جن کی دو برس پہلے شادی ہوئی تھی اور وہ اِس کیمپ میں 15 سال سے رہائش پذیر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ArtLords

اسی بارے میں