خالدہ ضیا کا عدالت میں پیش ہونے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سابق وزیراعظم کی جماعت بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے احکامات کے پیچھے سیاسی محرکات ہیں

بنگلہ دیش کی سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیا کے نمائندوں کا کہنا ہےکہ وہ ایک بس پر آتش گیر مادہ سے حملہ کرنے کے الزام میں وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد درخواست ضمانت حاصل کرنے کے لئے منگل کو عدالت میں پیش ہوں گی۔

گذشتہ سال حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ہونے والے حملے میں ایک شخص ہلاک جبکہ 30 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

سابق وزیراعظم کی جماعت بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے احکامات کے پیچھے سیاسی محرکات ہیں۔

وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد کی جانب سے بنگلہ دیش میں تشدد کی بڑھتی ہوئی لہر کے لیے بی این پی اور ان کی اتحادی جماعتِ اسلامی کو ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے۔

جماعت اسلامی کے کئی رہنماؤں کے خلاف سنہ 1971 کی جنگ کے دوران جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے الزام میں مقدمات درج کیے گئے ہیں جبکہ حزب اختلاف نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

بھارتی اخبار دی ہندو کے مطابق اتوار کے دن خالدہ ضیا کے وکیل نے بتایا کہ منگل کے روز سابق وزیر اعظم عدالت کے سامنے خود کو قانون کے حوالے کریں گی۔ وہ گذشتہ سال حکومت مخالف مظاہرے کے دوران بس پر مہلک پٹرول بم حملے کے لیے بھڑکانے کے الزام میں دائر مقدمے میں ضمانت کی درخواست کریں گی۔

ان کے ایک وکیل ثنااللہ میاں نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ’خالدہ پانچ اپریل کو میٹروپولیٹن سیشن جج کی عدالت میں خود کو پیش کریں گی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم عدالت میں پیشی کے بعد آتش زنی کے واقعے میں ان کی ضمانت کی درخواست جمع کروائیں گے۔‘

حالیہ پیش رفت میٹروپولیٹن سیشن جج کی عدالت کی جانب سے رواں سال 30 مارچ کو پارلیمان کے باہر مرکزی حزب اختلاف کی جماعت بی این پی کی 70 سالہ چیئر پرسن کی گرفتاری کے احکامات کے بعد سامنے آئی ہے۔

جج کمر الحسن نے ان 28 افراد سمیت 38 افراد کے خلاف مقدمے کے بعد گذشتہ سال جنوری میں جترابری میں آتش زنی کے واقعے میں ملوث ہونے کے الزام میں سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کی گرفتاری کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

سابق وزیر اعظم اور ان کی جماعت پر گذشتہ سال جنوری میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت گرانے کے لیے پرشدد مہم چلانے کا الزام ہے۔

میٹروپولیٹن سیشن جج کی عدالت کے اہلکار کا کہنا ہےکہ جج نے ان احکامات کی منظوری دے دی ہے اور پولیس سے کہا ہےکہ وہ گرفتاری کے احکامات پر عمل درآمد کروائے اور اس حوالے سے 27 اپریل تک رپورٹ عدالت میں جمع کروائے۔

اسی بارے میں