بنگلہ دیش میں سیکولر بلاگر کے قتل پر طلبہ کا احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گذشتہ برس سے بنگلہ دیش میں سکیولر بلاگرز کو مذہبی شدت پسندوں کے جانب سے قتل کیا جا رہا ہے

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں یونیورسٹی کے طالب علموں نے ایک سیکولر بلاگر کے قتل کے بعد شہر میں احتجاج کیا ہے۔

قانون کے ایک طالب علم صمد ناظم الدین کو چند نامعلوم لوگوں نے بدھ کی رات کو شہر میں چاقوں کے وار کر کے گولی مار دی تھی۔

صمد نے فیس بک پر ریڈکل اسلام کے خلاف کئی تبصرے کیے تھے۔

بنگلہ دیش میں گذشتہ برس کم از کم پانچ سیکولر بلاگرز کو انتہا پسند مسلمان ہلاک کر چکے ہیں۔

احتجاج کرنے والے طالب علموں کا کہنا ہے کہ اگر ایسے انتہا پسندوں کے خلاف ماضی میں کارروائی کی جاتی تو صمد کو قتل نہ کیا جاتا۔

ناظم الدین صمد کو بدھ کی رات ایک چوراہے پر پہلے چاقو کے وار کرکے زحمی کیا گیا پھر گولی مار دی گئی۔

* بنگلہ دیش: آزاد خیال بلاگر کے قاتلوں کو سزائے موت

یہ 28 سالہ نوجوان ’جن جاگرن‘ نامی سکیولر گروپ چلا رہے تھے۔

گذشتہ برس سے بنگلہ دیش میں سکیولر بلاگرز کو مذہبی شدت پسندوں کے جانب سے قتل کیا جا رہا ہے۔

بنگلہ دیش سرکاری طور پر ایک سکیولر ریاست ہے لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت ان حملوں کے خلاف کوئی باقاعدہ کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔

خبر رساں ادارے ڈھاکہ ٹربیون کے مطابق پولیس نے بتایا ہے کہ تین افراد موٹر سائیکل پر سوار تھے اور انھوں نے صمد پر حملہ کرنے کے بعد انھیں گولی مار دی۔

پولیس نے کسی بھی مشتبہ قاتل کا نام ظاہر نہیں کیا نہ ہی اب تک اس قتل کے پیچھے مذہبی محرک ثابت ہوا ہے۔

صمد جاگناتھ یونیورسٹی کے طالبِ علم تھے اور وہ باقاعدگی سے اپنے فیس بک صفحے پر مذہبی شدت پسندی کے خلاف لکھا کرتے تھے۔

انھوں نے وہاں اپنے مذہبی خیالات کے حوالے سے لکھا تھا کہ ’میرا کوئی مذہب نہیں ہے۔‘

گذشتہ برس بھی 4 قابلِ ذکر سکیولر بلاگرز کو خنجر کے وار کر کے قتل کیا گیا تھا جن میں سے ایک کو ان کے گھر میں ہی مارا گیا۔

یہ تمام افراد مذہبی گروہوں کی جانب سے سنہ 2013 میں سیکولر بلاگرز کی ایک فہرست میں شامل کیے گئے تھے۔

اسی بارے میں