بحث جے ماتا اور جان کی دھمکیوں کی

Image caption اس واقعے سے پہلے حافظ محمد دلکش اور اجمل نے ہندوستان میں قوم پرستی پر جاری بحث کے بارے میں صرف اخبارات میں ہی پڑھا تھا

دلی کے ایک چھوٹے سے مدرسے میں حافظ قرآن محمد دلکش درد سے کراہ رہے ہیں۔ چند روز قبل وہ اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ پارک میں گھومنے گئے تھے کہ انھیں کچھ نوجوانوں نے گھیر لیا۔

’انھوں نے پہلےمیرے ساتھی اجمل کو ایک تھپڑ مارا۔ پھر کہا کہ جے ماتا دی بولو ورنہ مار ڈالیں گے۔ پھر ہمارے سر سے ٹوپی اتاری اور پیر سے کچل دی، مجھے اتنا مارا کے میرے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ ہم مشکل سے جان بچا کر بھاگے۔‘

اس واقعہ سے پہلے محمد دلکش اور اجمل نے ہندوستان میں قوم پرستی پر جاری بحث کے بارے میں صرف اخبارات میں ہی پڑھا تھا۔

اب یہ بحث ایک خطرناک رخ اختیار کر رہی ہے۔

Image caption دارالعلوم دیو بند نے ایک فتوے میں کہا ہے کہ بھارت ماتا کی جے کہنا اسلامی عقیدے کے منافی ہے

یوگا کے گورو بابا رام دیو کا کہنا ہے کہ اگر انھیں قانون کی پاسداری کی فکر نہ ہوتی تو وہ بھارت ماتا کی جے کا نعرہ لگانے سے انکار کرنے والوں کے سر قلم کر دیتے۔ مہارشٹر کے وزیر اعلی کا کہنا ہے کہ نعرہ لگانے سے انکار کرنے والوں کے لیے ملک میں کوئی جگہ نہیں۔

قوم پرستی پر یہ بحث حکمراں جماعت بی جے پی کی سرپرست نظریاتی تنظیم آر ایس ایس نے شروع کی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ بھارت ماتا کی جے کا نعرہ ’کلچلرل نیشنل ازم‘ کی بہترین مثال ہے اور جو لوگ یہ نعرہ لگانے سے انکار کرتے ہیں، وہ در اصل ملک کے ثقافتی ورثے سے کنارہ کشی کر رہے ہیں۔

آر ایس ایس سے وابستہ راکیش سنہا کہتے ہیں کہ اگر کوئی طبقہ اچانک اس نعرے سے منہہ موڑ لے تو انھیں اس کی وجہ تو بتانا ہوگی۔’کیا انھیں اس میں مذہب کی بو آتی ہے، یا ہندو فسطائیت کی بو آتی ہے۔۔۔ آپ اس نعرے سے انکار کرکے آزادی کی جدو جہد کی پوری روایت اور وراثت کو مسترد کر رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنگھ پریوار اپنے انداز کی سیاست کی اجارہ داری قائم کرنا چاہتا ہے

لیکن دارالعلوم دیو بند نے ایک فتوے میں کہا ہے کہ بھارت ماتا کی جے کہنا اسلامی عقیدے کے منافی ہے کیونکہ بھارت کو ایک دیوی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور یہ نعرہ لگانا اس کی پوجا کے مترادف ہے۔ ’دیو بند کے مطابق جے ہند یا ہندوستان زندہ باد کا نعرہ لگار کر بھی وطن سے محبت کا اظہار کیا جاسکتا ہے۔‘

اگرچے آر ایس ایس کا کہنا ہے کہ وہ زور زبردستی کے خلاف ہے لیکن مہارشٹر کی قانون ساز اسمبلی میں یہ نعرہ لگانے سے انکار کرنے پر گزشتہ ماہ کانگریس سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے متحد ہوکر مجلس اتحاد المسلمین کے رکن وارث پٹھان کو ایوان سے معطل کرایا۔ اور پھر ریاست کے وزیر اعلی نے کہا کہ جو لوگ یہ نعرہ لگانے کے لیے تیار نہیں، ان کے لیے بھارت میں کوئی جگہ نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

سیاسی تجزیہ نگار پرشوتم اگروال کے مطابق یہ خطرناک صورتحال ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سنگھ پریوار اپنے انداز کی سیاست کی اجارہ داری قائم کرنا چاہتا ہے۔’آر ایس ایس ِخود کو ایک کلچرل تنظیم کہتی ہے کیونکہ اس کے لیے سیاست بھی کلچر کا ایک حصہ ہے۔۔۔ وہ ہندو مذہب کے نام پر ہندوتوا کی سیاسی اور ثقافتی اجارہ داری قائم کرنا چاہتے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اس بحث سے ملک میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان فاصلے بڑھیں گے اور ’آبادی کے ایک بڑے حصے کو، چاہے اس کا مذہب کچھ بھی ہو، اگر مسلسل ڈرا کر رکھا جائے تو یہ بہت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔‘

ادھر محمد دلکش کے مدرسے میں ان کے استاد محمد اظہر کا کہنا ہے کہ وہ ہندوستان سے محبت کرتے ہیں لیکن بھارت ماتا کی جے کا نعرہ نہیں لگائیں گے۔ ’ہم بھارت ماتا کی جے بالکل نہیں بولیں گے، ہم ہندوستان کا نعرہ لگاتےآئے ہیں اور لگاتے رہیں گے، ہندوستان زندہ باد تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ یہ ضروری نہیں کہ جو بھارت ماتا کی جے بولتا ہو وہ ہی محب وطن ہے۔ ہم ہندوستان زندہ باد کا نعرہ لگا کر پہلے بھی ہندوستان سے محبت کرنے والے کہلاتے تھے اور اب بھی کہلائیں گے۔‘

اسی بارے میں