جنگ، مذاکرات یا دونوں ساتھ ساتھ؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کچھ طالبان گروہوں ابھی تک ملا منصور کو بطور رہنما قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں

افغان طالبان کے سابق رہنما ملا محمد عمر کے دو رشتہ داروں کو باغی تحریک میں سینیئر عہدے دے دیےگئے ہیں۔

کیا یہ پرانی اور نئی قیادت کے درمیان پیدا ہونے والی دراڑ کے خاتمے کا اشارہ تو نہیں ہے؟

طالبان کی جانب سے جاری کیےگئے بیان کے مطابق سابق رہنما ملا محمد عمر کے بڑے صاحبزادے ملا یعقوب کو 15 صوبوں پر مشتمل طالبان کے فوجی کمیشن کا سربراہ مقرر کردیا گیا ہے۔ یہ کمیشن وزارت جنگ کی حیثیت سے فرائض انجام دیتا ہے اور یہ طالبان کے نو کمیشنوں میں سب سے اہم ہے۔

اُن کے چچا اور ملا محمد عمر کے بھائی ملا عبد المنان کو تبلیغ اور رہنمائی کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، جس کے فرائض میں بھرتی، رہنمائی، دوبارہ انضمام اور حکومت کا ساتھ چھوڑنے پر لوگوں کو مائل کرنا ہے۔

اِس کے علاوہ 20 اراکین پر مشتمل رہنما کونسل بھی قائم کی گئی ہے، جو کہ اِس گروہ کے فیصلے کرنے والی ذمہ دار ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ملا اختر منصور بہت تیزی سے ترقی کرتے ہوئے طالبان کے مرکزی رہنماؤں میں شامل ہو گئے

اگرچہ ملا عبد المنان کے پاس فوجی یا باضابطہ سیاسی طاقت نہیں ہے، تاہم اُن کی حمایت علامتی طور پر کافی اہم ہے اور طالبان کے نئے سپریم لیڈر ملا اختر منصور کی قانونی حیثیت میں اضافہ کرتی ہے۔

جب سنہ 2015 میں اِس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ ملا عمر دو سال قبل ہی انتقال کر چکے ہیں تو ملا یعقوب اور ملا منان نے ملا اختر منصور کی نئے طالبان سربراہ کی حیثیت سے تقرری کی مخالفت کی تھی۔

27 سالہ ملا یعقوب مبینہ طور پر پاکستان کے شہر کراچی کے دینی مدرسے سے فارغ التحصیل ہیں۔

افغان طالبان کے کئی اہم رہنماؤں نے بھی ملا منصور کی تقرری کی مخالفت کی تھی۔ یہ تمام افراد ملا عمر کے خاندان کے جھنڈے تلے آگے بڑھنا اور نئے رہنما کی حیثیت سے ملا یعقوب کی تقرری چاہتے تھے۔

لیکن کئی ہفتے کی سودے بازی اور مذاکرات کے بعد دونوں افراد نے ملا منصور کی قیادت تسلیم کرنے کا بیان جاری کیا تھا۔

دراڑیں ختم

یہ تقرری طالبان میں طاقتور رہنما سمجھے جانے والے ملا عبد القیوم ذاکر کی جانب سے نئے طالبان رہنما کی حمایت کے اعلان کے چند روز بعد سامنے آئی ہے۔ ملا ذاکر اقتدار کی لڑائی میں ’غیرجانبدار‘ رہے تھے۔

Image caption ملا عمر ذرائع ابلاغ کی نظروں سے زیادہ تر اوجھل ہی رہے تھے

ملا ذاکر طالبان کے سب سے طاقتور فوجی کمانڈروں میں سے ایک ہیں۔ گوانتاناموبے کے جیل سے رہائی کے بعد وہ طالبان کے فوجی کمیشن کے سربراہ کی حیثیت سے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔

لیکن 30 مارچ کو طالبان کی جانب سے ہاتھ سے تحریر کردہ ایک خط ذرائع ابلاغ کے اداروں کو بھیجا گیا اور اِس خط کو طالبان کی ویب سائٹ پر بھی شائع کیا گیا تھا۔ اِس خط پر ملا ذاکر کے دستخط بھی موجود تھے، جس میں اُن کا کہنا ہے کہ سابقہ ’تحفظات‘ دور ہو گئے ہیں اور اب وہ ملا اختر منصور کی بیعت کرتے ہیں۔

طالبان کی بنیاد رکھنے والے ملا عمر کے قریبی رشتہ داروں میں سے کچھ کی اہم عہدوں پر تقرریاں اور ملا ذاکر جیسے طاقتور کمانڈروں کی جانب سے ملا اختر منصور کے ساتھ وفاداری کے عہد سے گروہ کے اندر پیدا ہونے والی دراڑیں ختم ہوگئی ہیں اور اِس سے ملا اختر منصور کی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے جو ملا عمر کی وفات کے بعد دو سال سے طالبان کی رہنمائی کر رہے تھے۔

لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ملا منصور کی مشکلات ختم ہوگئی ہیں۔

فیصلہ کن جنگ

طالبان سے الگ ہونے والا گروہ مرکزی طالبان کے ساتھ جاری لڑائی میں کمزور تو ہوا ہے کہ لیکن یہ اب بھی فعال ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دوبارہ مسلح مزاحمت کے باوجود کچھ طالبان ہتھیار جمع کرانے پر رضامند ہو گئے ہیں

ملا محمد رسول کی قیادت میں نومبر 2015 میں قائم ہونے والے دھڑے اور مرکزی گروہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے درمیان اکثر لڑائی ہوتی رہتی ہے۔

ملا منصور کو اب بھی کچھ معروف طالبان رہنماؤں سے مصالحت کرنے کی ضرورت ہے، جنھوں نے عوامی طور پر اُن سے بیعت نہیں کی ہے۔

باغی گروہ، شدت پسند گروہ دولت اسلامیہ، افغان فوج اور اُن کے غیر ملکی اتحادیوں کے خلاف کئی محاذوں پر لڑنے کے باوجود مرکزی طالبان دوبارہ سے اپنے قدم جما رہے ہیں۔

اِن نئی پیش رفتوں کا وقت بھی بہت اہم ہے۔

اِس بات کا امکان ہے کہ رواں ماہ کے آخر تک طالبان اپنے سالانہ موسم بہار حملوں کا اعلان کردیں گے۔

تقریباً تین ہفتے قبل ملا اختر منصور نے اپنے پیروکاروں کو ’آخری دھکے‘ کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا تھا اور اُن کو ’آنے والے مہینوں میں فتح‘ کی امید دلائی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption حالیہ عرصے میں افغانستان کے سکیورٹی اہلکاروں اور طالبان کے مزاحمتی گروہوں میں لڑائی جاری رہی ہے

اہم رہنماؤں کی واپسی اور گروہ میں اختلافات کے خاتمے سے ممکنہ امن مذاکرات اور مستقبل میں کسی بھی معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے اثرات مرتب ہوں گے۔

اب تک طالبان نے افغان حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات کو مسترد کیا تھا، اُنھوں نے غیر ملکی افواج کے انخلا، فہرستوں سے رہنماؤں کے نام ہٹانے اور طالبان قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

افغانستان میں ایک اور اہم سال جنگ اور مذاکرات، یا کم سے کم مذاکرات کے حوالے سے باتیں، ساتھ ساتھ جاری رہتی دکھائی دے رہی ہیں۔

اسی بارے میں