ایران میں حجاب کے خلاف سیاح خواتین کی مہم

تصویر کے کاپی رائٹ My Stealthy Freedom

ایران میں خواتین کے لیے حجاب پہنا لازمی ہے لیکن فیس بک پر شروع ہونے والی ایک مہم میں ایران آنے والی سیاح خواتین سے کہا گیا ہے کہ وہ بغیر حجاب کے تصاویر پوسٹ کریں۔

یہ مہم مائی سٹیلتھی فریڈم کے نام سے شروع کی گئی ہے۔ تقریباً دو سال پہلے بی بی سی ٹرینڈنگ نے اس گروپ کی ایک اور مہم کے بارے میں اطلاع دی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ایران کی خواتین نے سر ڈھانپے بغیر تصاویر پوسٹ کی تھی۔

لیکن یہ حالیہ مہم ایران آنے والے فرانسیسی ایئر لائن کے عملے کے سر ڈھانپنے کے تنازعے کے بعد سامنے آئی ہے۔

تقریباً آٹھ سال کے بعد ایئر فرانس نے تہران کے لیے دوبارہ سے پروازیں شروع کی ہیں۔ ایئر لائن نے ایران آنے والی ایئر ہوسٹس سے کہا ہے کہ وہ جہاز سے نکلتے ہوئے سکارف پہنیں۔ جس پر خواتین فضائی عملے نے اعتراض کیا۔

اس احتجاج کے بعد ایئر فرانس نے کہا ہے کہ اگر کسی ایئر ہوسٹس کو سکارف پہنے پر اعتراض ہے تو وہ اپنی فلائٹ تبدیل کر سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ My Stealthy Freedom

خواتین ایئر ہوسٹس کے تحفظات کے حوالے سے مہم میں ایران جانے والی سیاح خواتین سے کہا گیا ہے کہ وہ سکارف کے بغیر تصویر بھیجیں۔ اکثر سیاحوں نے اپنا تصاویر بھجیں، جو انٹرنیٹ پر کئی ہزار مرتبہ شیئر کی گئی ہیں۔

اپنی تصاویر کے ساتھ ساتھ غیر ملکی خواتین نے ایرانی خواتین کو پیغامات بھی دیے۔

ایک خاتون نے لکھا کہ ’آپ کی حکومت خدا کا نام استعمال کر کے آپ کو محدود کرنا چاہتی ہے، آپ کو خاموش کروانا چاہتی ہے لیکن آپ کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ My Stealthy Freedom

’یہ ظلم صرف ان لوگوں کے ساتھ نہیں ہے بلکہ میری طرح کے سیاحوں کے لیے بھی حجاب پہنا ضروری ہے۔ میں ناراض ہوں اور پوری طرح سے اُس کا اظہار نہیں کر پا رہی ہوں۔‘

ایک اور سیاح خاتون نے کہا کہ ’ایران خوبصورت ہے یہاں کے لوگ زبردست ہیں۔ بہت مہمان نواز ہیں اور آزادی اور امن کے خواہاں ہیں۔حجاب پہنے کی لازمی شرط میں غلامی محسوس کر رہی ہوں۔ لیکن میرے لیے تو یہ محض 22 دن کی بات ہے آپ کو تو ہمیشہ اسے پہننا ہے۔‘

اسی بارے میں