جان کیری ہیروشیما آنے والے سینیئر ترین امریکی عہدیدار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مسٹر کیری ایٹمی بم کے نتیجے میں ماے جانے والے جاپانی شہریوں کی ایک یادگار پر بھی جائیں گے

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری سنہ 1945 میں امریکی ایٹم بم کا نشانہ بنائے جانے والے جاپانی شہر ہیروشیما کا دورہ کرنے والے سب سے زیادہ سینیئر امریکی عہدیدار بن گئے ہیں۔

جان کیری افغانستان سے واپسی پر ہیروشیما پہنچے ہیں جہاں وہ دنیا کی سات بڑی معاشی طاقتوں کے گروپ ’جی سیون‘ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

جی سیون کے وزرائے خارجہ جن امور پر تبادلہ خیال کریں گے ان میں دہشتگردی، مشرق وسطیٰ اور یورپ میں پناہگزینوں کا بحران بھی شامل ہیں۔

توقع کی کی جاری ہے کہ اجلاس میں جاپان ہیروشیما پر ایٹمی بم کے تباہ اثرات کی مناسبت سے دنیا میں جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں کمی کی بات پر بھی زور دے گا۔

اپنے دورے کے دوران پیر کو مسٹر کیری ایٹمی بم کے نتیجے میں ماے جانے والے جاپانی شہریوں کی ایک یادگار پر بھی جائیں گے۔

یاد رہے کہ آج تک اپنے دور اقتدار میں کسی بھی امریکی صدر نے ہیروشیما کا دورہ نہیں کیا ہے۔

جاپان پہنچنے سے قبل امریکی وزیر خارجہ کابل گئے ہوئے تھے جہاں انھوں نےکہا تھا کہ افغانستان میں دو حریف رہنماؤں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان شراکتِ اقتدار کا معاہدہ ختم کیے جانے کے لیے ابھی کوئی وقت مقرر نہیں کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Arg
Image caption افغانستان کے انتخابات میں متنازع نتائج کے بعد شراکتِ اقتدار کا یہ معاہدہ جان کیری نے کروایا تھا

قیاس کیا جا رہا ہے کہ اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیاں جاری شراکتِ اقتدار کا معاہدہ رواں برس ستمبر میں ختم ہو جائےگا۔

افغانستان کے انتخابات میں متنازع نتائج کے بعد شراکتِ اقتدار کا یہ معاہدہ جان کیری نے کروایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت اشرف غنی ملک کے صدر اور عبداللہ عبداللہ ملک کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔

یہ توقع کی جا رہی تھی کہ لویا جرگہ جو کہ اسمبلی کے سینئیر افراد پر مشتمل ہے دو سال کے اندر اندر قانون میں تبدیلی کرے گا اور ایگزیکٹیو وزیرِ اعظم کی آسامی بنائے گا۔

جان کیری نے کابل میں دونوں رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں۔

اشرف غنی نے کہا کہ سب کو امید ہے کہ طالبان کو امن مذاکرات میں شامل کر کے تشدد کے خاتمے کا عمل شروع کیا جا سکے گا۔

افغانستان، امریکہ دو طرفہ کمیشن کی تیسری ملاقات میں افغان وزیرِ خارجہ صلاح الدین ربانی اور امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری نے دوطرفہ تعاون میں ہونے والی پیش رفت اور مستقبل کے حوالے سے بات چیت کی۔

دو طرفہ کمیشن نے 2016 کے بعد بھی افغان فوجوں کی تربیت اور مدد کے لیے نیٹو افواج کی افغانستان میں موجودگی کا خیرمقدم کیا۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کے دورہ کابل کے اختتام پر دارالحکومت کے سفارتی علاقے میں دو بم دھماکے ہوئے تھے اور شہر میں فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

ماضی میں کابل میں سرکاری اور غیر ملکی اہداف پر حملوں کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔

خیال رہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ نے ایک ایسے وقت میں کابل کا دورہ کیا ہے جب نیٹو افواج کو جنگ زدہ علاقوں میں افغان فوجوں کی مدد کے لیے بڑھایا جا رہا ہے۔