کیرالا: مندر میں آتشزدگی، ہلاکتیں 100 سے زیادہ ہو گئیں

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالا کےضلع کولّم میں ایک مندر میں آگ لگنے سے ہلاک ہونے والے افراد کے تعداد 102 ہوگئی ہے جبکہ 200 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

کولّم کے ایک سینیئر پولیس افسر نے صحافیوں سے بات چیت میں ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

اس سے قبل ریاست کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ٹی پی سین کمار نے بی بی سے بات چیت میں اس حادثے میں 80 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

حکام کے مطابق کولّم سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پوتنگل دیوی مندر میں یہ حادثہ آتشبازی کے لیے جمع کیے گئے سامان میں آگ لگنے سے پیش آيا ہے۔

ڈاکٹروں کی خصوصی ٹیم حادثے میں زحمی ہونے والوں کے علاج کے لیے کیرالہ روانہ کی گئی ہے۔

مرنے والے بیشتر افراد کی لاشیں ناقابلِ شناخت ہو گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب ان کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کروائے جائیں گے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کیرالا روانہ ہو گئے ہیں۔ روانگی سے قبل جانے انھوں نے مندر میں آتشزدگی کے بارے میں ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں نے وزیر اعلی اومن چانڈی سے بات چیت کی ہے اور زخمیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے فوری طور پر وہاں سے منتقل کرنے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔‘

وزیر اعظم مودی نے ملک کے وزیر صحت پی نڈّا کو فوری طور پر جائے وقوعہ پر جانے کو کہا ہے۔

وزیراعظم نے اس بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہلاک ہونے والے ہر فرد کے اہل خانہ کو دو دو لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ زخمیوں کو 50 ہزار روپے دیے جائیں گے۔

حکام کے مطابق امدادای کارروائیاں جاری ہیں تاکہ زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پولیس کے مطابق حادثے میں 200 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں

بنگلور کے مقامی صحافی عمران قریشی کا کہنا ہے کہ انہیں ایک سینیئر افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اس واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد میں کافی اضافہ ہو سکتا ہے۔

کولّم کے ڈپٹی پولیس کمشنر کے لال جی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پیراور میں واقع پوتینگّل مندر میں پٹاخوں میں آگ لگنے کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آيا۔

انھوں نے بتایا کہ حادثہ اتوار کی علی الصبح اس وقت پیش آیا جب وہاں آتش بازی کا ایک جشن منایا جا رہا تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ مندر کی عمارت کے ٹکڑے دور دور تک بکھر گئے۔ ایک شخص کے بارے میں کہا جاتا ہے وہ مندر سے ایک کلومیٹر دور موٹر سائیکل پر جا رہا تھا کہ اینٹ کا ٹکڑا اسے آ لگا۔

ایک مقامی شخص جیاشری ہرےکرشنا کا کہنا تھا کہ ’ سیمنٹ اور اینٹوں کے ٹکڑے ہوا میں اُڑ رہے تھے، کچھ ٹکڑے مندر سے دور ہمارے گھر کے صحن میں بھی گرے۔‘

ایک اور عینی شاہد نے بتایا کہ پہلے دھماکے کے بعد علاقے کی بجلی بند ہوگئی، جس کی وجہ سے ہر طرف اندھیرا پھیل گیا اور امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آئیں۔ کرشنا داس کے بقول ’ہر طرف افراتفری پھیل گئی، لوگوں اندھیرے میں چیخ و پکار کر رہے تھے۔ ایمبولینس کے سائرن بج رہے تھے اور کسی کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ مندر سے باہر کیسے نکلے۔‘

پولیس کے مطابق حادثے میں 200 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں جن میں سے بیشتر کو نزدیکی ہسپتال میں داخل کرایا گيا ہے۔

مقامی میڈیا کی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ یہ آگ صبح تقریبا ساڑھے تین بجے کے آس پاس اس وقت لگی جب مندر میں وشنو جشن منایا جارہا تھا۔

اس جشن میں بہت زیادہ آتش بازی ہوتی ہے اور اسی آتش بازي کے سبب ہی آگ لگنے کا واقعہ پیش آيا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مندر میں ہزاروں لوگ جمع تھے

اسی بارے میں