مندر میں آتشزدگی سے 102 ہلاکتیں، عدالتی تحقیقات کا حکم

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

انڈین حکام نے اتوار کو جنوبی ریاست کیرالا کےضلع کولّم کے ایک مندر میں آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

ہلاک شدگان کی تعداد 102 ہے جبکہ اس واقعے میں 400 کے قریب افراد زخمی ہوئے۔

حکام کے مطابق کولّم سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پوتنگل دیوی مندر میں یہ حادثہ آتشبازی کے لیے جمع کیے گئے سامان میں آگ لگنے سے پیش آيا ہے۔

کیرالا پہنچنے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ انتھائی افسوسناک واقعہ ہے اور اسے الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے۔

ان کا کہنا تھا 200 میٹر کے فاصلے پر موجود لوگ بھی متاثر ہوئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مندر کی انتظامیہ نے حفاظت کے پیشِ نظر آتش بازی کرنے کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا تاہم وہاں موجوہد ہجوم نے دباؤ ڈال کر اسے ممکن بنایا۔

پولیس کی جانب سے مندر کی انتظامیہ اور وہاں موجود کنٹریکٹرز کے خلاف کارروائی کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔

کیرالہ کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے واقعے کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔ جس میں پولیس کی جانب سے بھی تحقیقات کی جائیں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption زخمیوں کی تعداد 400 بتائی جا رہی ہے

مرنے والے بیشتر افراد کی لاشیں ناقابلِ شناخت ہو گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب ان کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کروائے جائیں گے۔

کولّم کے ڈپٹی پولیس کمشنر کے لال جی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پیراور میں واقع پوتینگّل مندر میں پٹاخوں میں آگ لگنے کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آيا۔

انھوں نے بتایا کہ حادثہ اتوار کی علی الصبح اس وقت پیش آیا جب وہاں آتش بازی کا ایک جشن منایا جا رہا تھا۔

وزیراعظم نے اس بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہلاک ہونے والے ہر فرد کے اہل خانہ کو دو دو لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا تھا جبکہ زخمیوں کو 50 ہزار روپے دیے جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مندر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے آتش بازی کرنے کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا

عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ مندر کی عمارت کے ٹکڑے دور دور تک بکھر گئے۔ ایک شخص کے بارے میں کہا جاتا ہے وہ مندر سے ایک کلومیٹر دور موٹر سائیکل پر جا رہا تھا کہ اینٹ کا ٹکڑا اسے آ لگا۔

ایک مقامی شخص جیاشری ہرےکرشنا کا کہنا تھا کہ ’ سیمنٹ اور اینٹوں کے ٹکڑے ہوا میں اُڑ رہے تھے، کچھ ٹکڑے مندر سے دور ہمارے گھر کے صحن میں بھی گرے۔‘

ایک اور عینی شاہد نے بتایا کہ پہلے دھماکے کے بعد علاقے کی بجلی بند ہوگئی، جس کی وجہ سے ہر طرف اندھیرا پھیل گیا اور امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آئیں۔ کرشنا داس کے بقول ’ہر طرف افراتفری پھیل گئی، لوگوں اندھیرے میں چیخ و پکار کر رہے تھے۔ ایمبولینس کے سائرن بج رہے تھے اور کسی کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ مندر سے باہر کیسے نکلے۔‘

اسی بارے میں