’عورتیں شنی مندر آئیں گی تو ریپ کے واقعات بڑھیں گے‘

بھارت میں ہندوؤں کے مذہبی رہنما کے اس بیان پر سخت تنقید ہو رہی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ شنی دیوتا کے مندر میں خواتین کے جانے سے ان کے ریپ کے واقعات بڑھیں گے۔

شنکراچاری سوروپاند کا یہ بیان مہاراشٹر کے شنی شنگناپر مندر میں خواتین کے داخلے کی اجازت کے بعد آیا ہے۔ اس مندر میں صدیوں سے صرف مردوں کو داخلے کی اجازت تھی۔

ممبئی ہائی کورٹ نے گذشتہ ماہ تمام مندروں میں خواتین کے داخلے کے حق کو تسلیم کیا تھا۔

انڈیا میں خواتین طویل عرصے سے شنی دیوتا مندر میں داخل ہونے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔

اس منظوری کے بعد نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق 94 سالہ شنکراچاری سوروپاند نے کہا: ’خواتین کو شنی دیوتا مندر میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔ خواتین اب شنی دیوتا مندر میں پوجا کر رہی ہیں۔ ایسے میں جب شنی دیوتا کی آنکھیں خواتین پر پڑیں گی تو اس سے ریپ کے واقعات بڑھیں گے۔‘

شنی شنگناپر مندر میں خواتین کو گذشتہ 400 سال رسائی کی اجازت نہیں تھی۔ مندر کے حکام کے مطابق ایسا اس لیے تھا تاکہ شنی دیوتا سے نکلنے والے ریڈیشن سے خواتین کی حفاظت کی جا سکے۔

اس دعوے کے مطابق اگر حاملہ خواتین مندر کے اندر داخل ہوتی ہیں، تو ان کے جنین پر اثر ہو سکتا ہے۔

ممبئی ہائی کورٹ کے مطابق اگر خواتین کو شنی دیوتا مندر میں داخل ہونے سے روکا گیا تو ایسا کرنے والوں کو چھ ماہ کی قید ہو سکتی ہے۔

شنکراچاری سوروپاند کے بیان کی سوشل میڈیا پر کڑی تنقید ہو رہی ہے۔

راہل راج نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ اگر شنکراچاری سوروپاند جیسے لوگ مذہبی رہنما ہوں گے تو صرف خدا ہی مذہب کو بچا سکتا ہے۔

ایک اور صارف دیپا رائے چودھری نے پوچھا ہے کہ یہ سوروپاند ہے کون؟ کیا انھیں اسی خدا نے نہیں بنایا جس نے خواتین کو پیدا کیا ہے؟

اسی بارے میں