سعودی عرب کی مخالفت کے باوجود ایران کے لیے روسی میزائل

تصویر کے کاپی رائٹ RIA Novosti
Image caption ایس 300 میزائل کو متعدد اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے

اطلاعات ہیں کہ روس نے ایران کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے ایس 300 میزائل فراہم کرنا شروع کر دیے ہیں۔

اس معاہدے کی امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب نے مخالفت کی تھی۔

* ’مستقبل میزائلوں میں ہے صرف مذاکرات میں نہیں‘

ایران کے وزراتِ خارجہ کے ترجمان حسین جابری انصاری کا کہنا ہے کہ ’معاہدے کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد کر دیا گیا ہے۔

تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ کتنے میزائل ایران کے حوالے کیے گئے ہیں۔

گذشتہ برس ایران کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے کے بعد اس متنازع معاہدے کے لیے راہ ہموار ہوئی تھی۔

80 کروڑ ڈالر لاگت کا یہ معاہدہ سنہ 2007 میں طے پایا تھا لیکن بین الاقوامی پابندیوں کے باعث روس نے 2010 میں اسے منجمد کر دیا تھا۔ روسی صدر ولادی میر پوتن نے ایک سال قبل اس پر دوبارہ عمل درآمد کی اجازت دے دی تھی۔

اسرائیل اور امریکہ کو خدشہ ہے کہ یہ میزائل ایران کی جوہری تنصیبات کے فضائی حملوں سے دفاع کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔

ایس 300 میزائل کو متعدد اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جن میں جیٹ طیارے اور میزائل شامل ہیں۔

اسی بارے میں