افغانستان میں امن کی بحالی پر تعطل، آپریشن کے اعلانات

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

افغانستان میں موسم بہارکی آمد پر کابل کی حکومت اور طالبان کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

افغان حکومت نے کہا ہے کہ وہ طالبان کے خلاف ’شفق‘ کے نام سے آپریشن شروع کر چکی ہے جبکہ طالبان نے شدت پسند تنظیم کے بانی سربراہ ملا عمر کے نام کی نسبت سے’عمری آپریشن‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

افغان ایوان صدر کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان کی طرف سے آپریشن کا اعلان کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ حکومت پہلے ہی ایسا آپریشن شروع کر چکی ہے اور حکومتی افواج کو میدان جنگ میں برتری حاصل ہے۔

* جنگ، مذاکرات یا دونوں ساتھ ساتھ؟
Image caption بیان سے ظاہر ہوتا کہ ہے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں سود مند ثابت نہیں ہوئی ہیں

حکومت اور طالبان کی جانب سے آپریشن شروع کرنے کے اعلانات سے افغانستان میں قیام امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو ایک دہچکا لگا ہے۔حکومت اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات مارچ میں شروع ہونا تھے جو ابھی تک نہیں ہو سکے ہیں اور فریقین کی جانب سے آپریشن شروع کرنے کے اعلانات سے امن کا عمل مزید متاثر ہو سکتا ہے۔

رواں موسم سرما افغانستان کے لیے انتہائی خونی سال ثابت ہوا ہے۔ سخت سردی کے علاوہ طالبان بڑے بڑے حملے کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ طالبان کی جانب سے موسم بہار میں ’عمری آپریشن‘ شروع کرنے کے اعلان کو زیادہ تشویشناک تصور کیا جا رہا ہے جس میں وہ موسم سرما میں اپنی کامیابیوں کو مزید پائیدار بنانا چاہتے ہیں۔

افغانستان کے ایک صحافی عنایت الحق یاسینی نے حکومت اور طالبان کی جانب سے آپریشن شروع کرنے پر کہا یہ کتنی ستم ظریقی کی بات ہے کہ ساری دنیا میں موسم بہار امید کی نوید لاتا ہے جبکہ افغانستان میں موسم بہار جنگ اور تباہی لاتا ہے۔

خیال رہے کہ ہر سال افغان حکومت نیٹو فورسز کے ساتھ اور طالبان موسم بہار کے آغاز پر نئی جنگی کارروائیوں کا آغاز کرتے ہیں۔

افغان وزارت داخلہ نے طالبان کو ایک خیالی امارت اسلامیہ قرار دیتے ہوئے ان کی جانب سے موسم بہار میں جنگی کارروائیوں کو افغان شہریوں کے خلاف جنگ قرار دیا ہے۔

طالبان کی رہبری شوریٰ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق امریکی مداخلت کے خلاف ان کی عسکری کارروائیوں کے 14 سال مکمل اور اب 15 واں سال جاری ہے۔

امریکہ کی وارننگ

طالبان کی جانب سے آپریشن شروع کرنے کے اعلان سے چند گھنٹے پہلے کابل میں امریکی سفارت خانے نے امریکی شہریوں کے لیے ایک ہنگامی وارننگ جاری کی تھی۔ امریکی سفارت خانے نے امریکی شہریوں کو ہوشیار رہنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ انھیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ افغان مزاحمت کار کابل میں ایک بڑے ہوٹل پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

رواں سال موسم سرما میں طالبان نے شمالی افغانستان میں قندوز پر تھوڑے عرصے کے لیے قبضہ کرنے کے علاوہ جنوبی صوبے ہلمند کے بڑے حصےکو اپنے تسلط میں لے چکے ہیں۔

ہلمند جہاں گذشتہ ایک عشرے سے جاری جنگ میں امریکہ اور برطانیہ کے ہزاروں فوجی طالبان سے لڑتے ہوئے مارے گئے تھے، افغانستان کی افواج کئی علاقوں کو خالی کر چکی ہیں اور صوبائی دارالحکومت لشکر گاہ پر اپنے قبضہ قائم رکھنے کی سرتوڑ کوشش میں ہیں۔

نیٹو کے مطابق افغانستان کا صرف چھ فیصد حصہ طالبان کے قبضے میں ہے لیکن افغانستان کے ایک تہائی علاقوں کو طالبان کا قبضے کا خطرہ لاحق ہے۔ افغانستان کی افواج کی ملک کے صرف 70 فیصد حصے پر عملداری ہے۔

.

اسی بارے میں