’ہم جنس پرست جوڑے کی شادی رجسٹر نہیں کر سکتے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption چین میں ہم جنس پرست شادیوں کو قانونی طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا

چین میں ایک جج نے فیصلہ دیا ہے کہ ہم جنس پرست مرد جوڑوں کو شادی شدہ رجسٹر نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ہے۔

ہم جنس پرست جوڑے سن وینلین اور ہو منگلینگ نے شادی رجسٹر کرانے کی درخواست مسترد ہونے کے بعد چنگشا شہر کے حکام کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔

رواں برس جنوری میں ضلعی عدالت نے مقدمے کی سماعت کا فیصلہ کیا تھا۔

چین میں ہم جنس پرست شادیوں کو قانونی طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا، لیکن یہاں ہم جنس پرستوں اور خواجہ سراؤں کے بارے میں شعور میں اضافہ ہو رہا ہے۔

بدھ کے روز عدالت میں پیشی کے وقت 27 سالہ مسٹر سن اور 37 سالہ ہو کا بھر پور استقبال کیا گیا۔ اِس موقعے پر سینکڑوں افراد عدالت کے باہر جمع تھے، تاہم حکام نے تقریباً 100 افراد کو عدالت میں داخلے کی اجازت دی۔

مقدمے کی سماعت کے چند گھنٹوں میں ہی مقدمے کو مسترد کر دیا گیا۔

ہم جنس جوڑے کے وکیل شی فونگ کا کہنا ہے کہ اُنھیں پتہ تھا کہ فیصلہ اُن کے خلاف آئے گا، لیکن اتنی جلدی آ جائے گا، اس کا علم نہیں تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ عوامی جمہوریہ چین کے قوانین کی روح کے خلاف ہے۔‘

مسٹر سن کا کہنا ہے کہ وہ عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔

دونوں افراد نے گذشتہ سال جون میں اپنی شادی رجسٹر کرانے کی کوشش کی تھی، اور اس میں ناکامی کے بعد دسمبر میں مقدمہ دائر کر دیا تھا۔

مسٹر سن کا کہنا ہے کہ مقدمہ دائر کرنے کے بعد پولیس حکام اُن کے گھر آئے، اور مقدمہ واپس لینے کے لیے انھیں قائل کرنے کی کوشش کی۔ تاہم اُنھوں نے انکار کر دیا تھا۔

جنوری میں ریاستی ذرائع ابلاغ کو دیے گئے انٹرویو میں اُن کا کہنا تھا کہ ’شادی کے قانون کے اصل متن میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ شادی صرف مرد اور عورت ہی کے درمیان ہو۔ اُس میں صرف شوہر اور بیوی تحریر ہے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ یہ صرف جنس مخالف جوڑوں کے لیے نہیں بلکہ ہم جنس پرست جوڑوں کے لیے بھی ہے۔‘

اسی بارے میں