70 سال بعد دو امریکی فوجیوں کی باقیات کی واپسی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

انڈیا کی شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش کے گھنے جنگلات سے 70 سال کے بعد برآمد ہونے والے دو امریکی ہوا بازوں کی باقیات امریکہ کے سپرد کر دی گئی۔

ان ہوابازوں کا طیارہ دوسری عالمی جنگ کے دوران اس دشوار گزار پہاڑی علاقے میں حادثے کا شکار ہوگیا تھا۔

دوسری عالمی جنگ کے دوران جب جاپان نے برما پر قبضہ کیا تو انڈیا سے چین تک رسد پہنچانے کے لیے یہ فضائی راستہ اختیار کیا گیا تھا جو ہمالیہ کے برفیلے پہاڑوں کے اوپر سے گزرتا ہے۔

ہوا بازوں کی باقیات کو پہلے امریکہ کے شہر ہوائی لے جایا جائے گا جہاں ان کی ڈی این اے ٹیسٹنگ کی جائے گی۔

امریکی ہوا بازوں کی باقیات بدھ کو ایک تقریب میں امریکی فوجی اہلکاروں کے سپرد کی گئی۔ اس موقع پر امریکہ کے وزیر دفاع ایشٹن کارٹر بھی موجود تھے۔

ان کا کہنا کہ اس سے ہمارے فوجیوں کو یہ پیغام ملے گا کہ جو لوگ اپنی جان کی قربانی دیتے ہیں ان کے لیے ہم کس حد تک جا سکتے ہیں۔

امریکی فوج نے گذشتہ برس ستمبر میں اپنی ایک ٹیم اروناچل پردیش بھیجی تھی۔ اس کا مقصد اس فوجی طیارے کا ملبہ تلاش کرنا تھا جو سنہ 1944 میں حادثےکا شکار ہوگیا تھا۔ اس بی 24 طیارے میں آٹھ افراد سوار تھے۔

امریکی مرین کور کے کپتان گریگ لنچ کے مطابق ٹیم کو طیارے کے ملبے تک پہنچنے کے لیے تین دن تک گھنے جنگلات میں پیدل سفر کرنا پڑا۔

ان کے مطابق ٹیم کا خیال ہے کہ انھیں ہوابازوں کی باقیات ملی ہے لیکن اس کی تصدیق ڈی این ایے ٹیسٹنگ کے بعد ہی ہو سکے گی۔

گریگ لنچ کا کہنا ہے ’اس کارروائی میں حصہ لینا میرے لیے بہت اہم ہے اگر یہ میری باقیات ہوتی تو اتنے عرصے بعد بھی میرے گھر والوں کے لیے انھیں حاصل کرنا کتنا اہم ہوتا۔ ہم ان لوگوں کو، جن کے عزیز لوٹ کر نہیں آئے تھے، یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس وقت کیا ہوا تھا؟۔‘

دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپان کی جانب سے برما سے گذرنے والا زمینی راستہ بند کرنے کی بعد اتحادی افواج کی فضائیہ نے اس راستے سے تقریباً ساڑھے چھ لاکھ ٹن گولہ بارود، ایندھن اور فوجی ساز و سامان چین پہنچایا تھا۔ اس دوران تقریبا 590 طیارے یا تو مار گرائے گئے یا حادثات کا شکار ہوئے اور ان میں مجموعی طور پر 1,650افراد ہلاک ہوئے۔

ان میں سے کئی طیارے اروناچل پردیش کے جنگلات میں گرے تھے۔

امریکی وزیر دفاع کے مطابق وہ اس علاقے میں لاپتہ ہونے والے باقی ہوا بازوں کی تلاش جاری رکھنا چاہتے ہیں۔