یورپی یونین اور ایران کے تعلقات میں ’نئے باب کا آغاز‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فیڈیریکا موغرینی اور ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے درمیان ملاقات میں شام اور مشرق وسطیٰ میں استحکام پر بھی بات ہوئی

یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ فیڈیریکا موغرینی نے اپنے دورہ ایران کے موقع پر کہا ہے کہ یورپی یونین اور ایران کے سفارتی تعلقات میں ’نئے باب‘ کا آغاز ہوا ہے۔

فیڈیریکا موغرینی نے کہا ہے کہ ایران اور یورپی یونین کے درمیان کئی شعبوں جن میں معیشت، توانائی، تعلیم، مائگریشن اور ٹرانسپورٹ شامل ہیں پر کام کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔

گذشتہ سال ایران کے ساتھ ہونے والے تاریخی جوہری معاہدے کے بعد فیڈیریکا موغرینینے ایران کا دورہ کیا ہے۔

اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ’ان کے مذاکرات کے نتائج سے ایرانی اور یورپی شہریوں کی زندگی میں واضح تبدیلی آئے گی۔‘

دوسری جانب ایرانی صدر حسن روحانی انقرہ میں موجود ہیں جہاں انھوں نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے ساتھ ملاقات کی ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان بینکنگ اور معیشت میں تعاون اور تجارت کو آئندہ دو سالوں میں 30 بلین ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فیڈیریکا موغیرینی نے کہا کہ ان مذاکرات کے نتائج سے ایرانی اور یورپی شہریوں کی زندگی میں ’واضح تبدیلی‘ آئے گی

صدر طیب اردوغان نے کہا ہے کہ ’دونوں ممالک کے درمیان شام کے معاملے پر موجود اختلافات کو کم کرنے، مل کر فرقہ ورانہ اور شدت پسندی کے مسائل کا حل نکالنے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔‘

فیڈیریکا موغرینی نے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے ساتھ ملاقات میں بھی شام کے مسلے اور مشرق وسطیٰ میں استحکام پر بات ہوئی ہے۔

ایران میں انسانی حقوق کے بارے میں فیڈیریکا موغرینی نے کہا کہ ’یہ کوئی راز نہیں ہے اور ہمیں بھی اس پر تشویش ہے۔‘

جواد ظریف نے اس موقع پر ایران کو ’ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن‘ کا حصہ بنانے کے لیے یورپی یونین کی مدد کا خیر مقدم کیا اور ساتھ ہی امریکہ سے بینکاری کے شعبے سے رکاوٹوں کو دور کرنے کے وعدوں کو پورا کرنے کا بھی کہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ایران اور یورپی یونین امریکہ پر دباؤ ڈالے گا کہ وہ ایران کے ساتھ غیر امریکی بینکوں کے تعاون میں مدد کرے۔‘

اسی بارے میں