پاکستان سے آنے والے ہندوؤں کے لیے سہولتوں کی تجویز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان سے انڈیا ہجرت کرنے والے ہندو خاندانوں کی تعداد معلوم نہیں (فائل فوٹو)

بھارتی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ایک نئے منصوبے کے تحت پاکستان سے بھارت ہجرت کرنے والے ہندوؤں کو بھارت کی شہریت دینے کے عمل کو آسان بنایا جائےگا۔

بھارتی اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ کے مطابق اتوار کو وزارت داخلہ کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ مجوزہ منصوبے میں ’پاکستان سے آنے والے اقلیتی برادریوں کے افراد کو بھارت میں زیادہ عرصے تک قیام‘ کے ویزے جاری کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان سے آنے والے ہندوؤں کو بھارت میں جائداد خریدنے، بینک اکاؤنٹ کھلوانے اور مستقل اکاؤنٹ نمبر حاصل کرنے کی سہولتیں بھی دی جائیں گی۔

اخبار کے مطابق اس منصوبے کے تحت 18 اضلاع کے کلیکٹرز یا ڈپٹی میجسٹریٹوں کو دو سال کے لیے پاکستان سے آنے والے افراد کو نہایت کم فیس پر بھارت کی شہریت دینے کے اختیارات بھی دیے جائیں گے۔

اخبار کا مزید کہنا ہے کہ وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے یہ بھی بتایا ہے کہ یہ منصوبہ ابھی تجاویز کے مرحلے میں ہے اور اس پر عوام کی رائے لی جائے گی۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق پاکستان اور بنگلہ دیش سے بہت سے لوگ سفری دستاویزات کے بغیر بھارت میں داخل ہو جاتے ہیں یا ان کے پاس موجود دستاویزات کی معیاد ختم ہو چکی ہوتی ہے۔

گذشتہ برس ستمبر میں حکومت نے ’انسانی بنیادوں‘ پر یہ فیصلہ کیا تھا کہ جو لوگ بھارت میں 31 دسمبر سنہ 2014 سے پہلے داخل ہو چکے تھے انھیں ویزے کی معیاد ختم ہونے کے باوجود ملک میں رہنے کی اجازت دے دی جائے گی۔

ایسے افراد کی صحیح تعداد معلوم نہیں، تاہم ایک اندازے کے مطابق اِس تاریخ سے پہلے افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش سے انڈیا پہنچنے والے لوگوں کی تقریباً دو لاکھ کے قریب ہے۔

اسی بارے میں